سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 405 of 418

سیلابِ رحمت — Page 405

29-9-90 عزیزہ مکرمہ امۃ الباری ناصر جلسہ پر پڑھی جانے والی نظموں کے متعلق محبت بھرے رنگارنگ خطوط ملتے ہیں لیکن سب پر محبت کا رنگ غالب رہتا ہے اس لئے پوری طرح اطمینان نہیں ہوتا کہ کسی نے متوازن تنقیدی نظر سے بھی جائزہ لیا یا نہیں کبھی کبھی سلسلہ کے بعض چوٹی کے شعراء اور ادیب بھی جب اپنی پسند کا اظہار کرتے ہیں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ تعریف تو سچی کر رہے ہیں لیکن خامیوں کے متعلق صرف نظر کر جاتے ہیں۔آپ کا آج کا خط مستثنی ہے پہلی بات تو یہ نمایاں ہے کہ تمام تریج ہے اور سچ کے سوا کچھ نہیں۔جہاں کچھ اصلاح کی گنجائش دیکھی وہ بڑے ملائم دل پسند الفاظ میں تجویز کردی۔انکساری کی آمیزش نے ان الفاظ کو اور بھی شائستہ بنادیا۔دوسری نمایاں بات یہ ہے کہ آپ کے تبصرہ میں بھنورے کا سارنگ پایا جاتا ہے۔دور ہی سے دیکھا اور سونگھا نہیں بلکہ بھنورے کی طرح ہر شعر کے دل میں ڈوب کر پردوں میں لپٹی ہوئی روح سے شناسائی کے بعد لب کشائی کی ہے۔یہ تو میں نہیں کہتا کہ میرے دل کی سب باتوں تک آپ اتر گئیں لیکن یہ ضرور کہ سکتا ہوں کہ بند کواڑوں والے گھر کو راستہ چلتے ٹھہر کر نہیں دیکھا بلکہ کواڑ کھول کر اندر سے بھی جائزہ لیا۔ایک اور بات یہ بھی کہہ سکتا ہوں کہ کواڑ کھلوائے نہیں خود کھولے 401