سیلابِ رحمت — Page 354
سیلاب رحمت تو تھی مگر وقت کے ہاتھوں مجبور تھا۔یہی روک تھی کہ کبھی کسی کو کلام شائع کرنے کی اجازت نہیں دی اور جنہوں نے بلا اجازت شائع کیا انہوں نے نہ صرف اس حصے کو اسی طرح غلط شائع کر دیا جس پر میں نظر ثانی کرنا چاہتا تھا بلکہ سہو کتابت کے وجہ سے سوء فہم کی بنا پر کلام میں مزید بہت سے سقم پیدا کر دئے۔مثلاً اضافت کے غلط استعمال ، الفاظ کی بے جا تکرار وغیرہ جس نے مضمون بھی بگاڑا اور وزن بھی توڑا۔علاوہ ازیں بعض الفاظ کا ٹچھٹ جانا وغیرہ وغیرہ۔اب ان سب جگہوں پر میں نے درستی کر دی ہے مگر یہ غلطیاں نہیں تھیں بلکہ کتابت یا ناشر کے فہم کا قصور تھا۔لیکن اس قبیل کے قابل اصلاح شعروں کے علاوہ بھی متعدد ایسے اشعار تھے جو کئی طرح کے سقم رکھتے تھے جن کیلئے دماغ اور وقت کا میسر آنا ایک مسئلہ بنا ہوا تھا۔مدت سے ذہن یہی بات سوچتا اور ٹالتا رہا کہ کسی وقت تسلی سے ٹھیک کر کے زبان کے تقاضے قربان کئے بغیر مضمون کا حق ادا کرنے کی کوشش کروں گا۔اور اگر آپ اس طرح مستقل مزاجی اور صبر کے ساتھ مجھے بار بار تنگ نہ کرتیں تو شاید یہ کام کبھی بھی نہ ہوتا۔(مکتوب 16 جنوری 1993 ، صفحہ 3) لفظوں کے حکیمانہ انتخاب میں جانکاہی کی چند مثالیں پیارے حضور نے نظموں کی اصلاح کرتے ہوئے جو حکمتیں سمجھائی ہیں وہ علوم کا ایک خزانہ ہیں۔جن کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کسی چیز کو سرسری نظر سے نہیں دیکھتے بلکہ 350