سیلابِ رحمت — Page 353
سیلاب رحمت ہے کہ کسی دوسرے کے شعر کی اصلاح کرے لیکن اصلاح کا حق صرف اتنا ہی ہے کہ اس مضمون کو تبدیل کئے بغیر جو شاعر بیان کرنا چاہتا ہے بہتر الفاظ میں ( زبان کے سقم کو دور کر کے ) بیان کرنے میں اس کی مدد کرے یا اگر طرز بیان بے جان ہے تو الفاظ کے تغیر و تبدل سے اسی مضمون میں جان ڈال دے مگر نیا مضمون داخل کرنے کو میں اصلاح نہیں سمجھتا۔نہ ہی زبان کی اصلاح کرتے کرتے مضمون کا حلیہ بگاڑ دینا میرے نزدیک اصلاح میں داخل ہے۔“ ( مكتوب 16 جنوری 1993 صفحہ 3) خاکسار تسلیم کرتی ہے کہ اپنی کم فہمی کی وجہ سے ذوق سلیم کی بلندیوں پر متمکن پیارے حضور کی کوفت کا سامان کیا۔مگر یہ تو دیکھئے کہ اس معدن علم پر ہلکی سی دستک سے کیا کیا خزائن اہل پڑے۔کیسے کیسے ٹھنڈے میٹھے پانیوں کے چشمے جاری ہو گئے۔ایک کوہ وقار کے نہاں خانہ دل کی کچھ کھڑکیاں کھل گئیں۔پس میری کوتاہیوں سے صرف نظر کر کے اس سدا بہار گلستان کی سیر کیجئے۔فرماتے ہیں: وو۔۔۔جو کام سالہا سال سے کرنے کو پڑا تھا مگر نہ وقت ملتا تھا نہ دماغ میسر آتا تھا وہ آپ نے آسان کر دیا۔نشان لگا کر بھیج دئے اور پیچھے پڑ کر مجبور کر دیا کہ اب اس کام کو نہ ٹالو۔حسن اتفاق سے مسودہ ملنے کا وقت بھی نہایت موزوں ثابت ہوا۔چنانچہ کینیڈا سے واپسی پر ہالینڈ میں قیام کے دوران کچھ فرصت میسر آگئی اور اللہ کے فضل سے دو دن کے اندر ہی ان مقامات کی تصحیح کی توفیق مل گئی جن کے متعلق دیرینہ خلش 349