سیلابِ رحمت — Page 271
سیلاب رحمت اس طرح یہ یاد گار خط الفضل کی زینت بنا۔جب بھی یہ خط پڑھتی ہوں ، لگتا ہے المحراب کی تیاری میں صرف شدہ ساری محنت کا اجر کئی گنا بڑھا کر اللہ تعالیٰ نے اس خط کی صورت میں عطا کر دیا ہے۔ملاحظہ فرمائیے: واجعل إن من لدنه سلما نصيرة انا فتحنا لك فتحا مبينا ولقد تضركم نحْمَدُه وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الكَرِيمِ AHMADIYYA MUSLIM S لنڈی امام جماعت احورية یلم مئی 1991 چرا میں نے اس عنوان میں صرف اتنا تصرف کیا ہے کہ میزبان کو میمان' میں بدل دیا ہے مکرمہ آیا سلیمی قید تجنہ اماءاللہ کراچی اسلام علیکم ونعمته است و برکات کا ابھی الفصل مورخہ 29 رمضان المبارک میں شائع شدہ مضمون بعنوان: خوش نصیب کہ ہم میزبان تھے ان کے پڑھا ہے۔دل کی عجیب کیفیت ہے۔لاہور اسلام آباد راولپنڈی۔شیخو پورہ۔کراچی۔حیدر آباد میر یو خاص ناصر آباد دیر میں سفر کے دوران کہیں تھوڑا کہیں زیادہ ٹھہرنے کا موقع ملا کرتا تھا۔تھا جہاں زیادہ موقع ملتا تعادہ بھی ہمیشہ تھوڑا ہی معلوم مدا۔آن کی آن میں وقت گزر جایا کرتا تھا۔یہ مضمون پڑھتے ہوئے وہ سب یا دیں ہجوم در ہجوم امڈ آئیں۔جوں جوں پڑھتا گیا دل گداز ہوتا چلا گیا اند پانی برستا رہا۔کس نے اتنا اچھنا مضمون لکھا ہے۔اتنا سمجھا ہوا۔اتنا متوازن - اتنا شسته - مسکراہٹوں کے ریشم۔میں درد لیٹے ہوئے۔سنجیدہ باتوں کے ہمراہ ان کی انگلیاں کھڑے ہوئے ہلکی پھلکی لا ابالی باتیں بھی کمسن بچیوں کی طرح ساتھ ساتھ چلتی۔دوڑتی دکھائی وشاکی دیتی 269