سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 250 of 418

سیلابِ رحمت — Page 250

سیلاب رحمت اخلاص، عمر اور کام میں برکت دے اور لازوال فضلوں سے نوازے“ ( مكتوب 1992-5-27) لجنہ کے دفتر کی گہما گہمی کے حوالے سے ایک نظم کہی جو مختلف مجلسوں میں سنائی۔ایسی وقتی طور پر محظوظ ہونے والی نظموں کو فنی طور پر سنوارنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی۔میری سامعات اُسی سے خوش ہو جاتیں۔ایسی ہر محفل میں جس میں اس نظم سے شگفتگی کی لہر پیدا ہو جاتی مجھے یہ نظم آقا کوبھجوانے کا خیال رہتا۔آخر ایک دن جرات کر ہی ڈالی۔وہ نظم جسے بھیجتے ہوئے خاصا جھینپ رہی تھی بہت ہی برکتوں والی ثابت ہوئی۔91-8-22 کے مکتوب میں دست مبارک سے تحریر فرمایا: ”آپ نے جو لجنہ کے دفتر پر مزاحیہ نظم بھیجی تھی اس پر میں نے کچھ مرمت لگائی ہے مگر کام باقی تھا کہ دوسرے کاموں نے گھیر لیا۔“ اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر کیا سب کو بتایا کہ اُس نظم کی مرمت لگ رہی ہے۔بے حد شوق سے انتظار کرتے رہے۔اس کے بعد آپ جلسہ سالانہ قادیان میں مصروف ہو گئے اور خاکسار کی انتظار کی گھڑیاں طویل ہوتی گئیں۔آخر مارچ 1992ء کو آپ نے یہ نظم ایک مکتوب کے ساتھ بھیجی۔اس نظم کی شان ہی کچھ اور ہو گئی تھی آخری بندا ایسے تھے کہ اُس میں آپ نے میری نظم کے چند الفاظ ہی تبدیل کئے۔مگر پہلے پانچ بند تو زمین سے اٹھا کر آسمان پر پہنچا دئے۔خط میں کراچی جماعت کے لیے دعائیں بھی تحریر فرمائیں : 248