سیلابِ رحمت — Page 248
لندن آج اس بحر محبت میں تلاطم سا تھا میں نے اک اور طرح سے تری چاہت دیکھی غیر سو طرح کے محفوظ حصاروں میں جلے ہم نے تو مکڑی کے جالے سے حفاظت دیکھی لبسم الله الريح الفحم نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّ عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ واجْعَل لي من لدنك سلطناً تعبيراً انا فتحنا لك فتخاطبينا الله بنذار والشمال MIRZA TAHIR AHMAD HEAD OF THE AHMADIYYA COMMUNITY IN ISLAM عزیزه امته البادی ناصر اسلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکات کے 22 جنوری کے الفضل میں شائع ہونے والار آپکا کلام مجھے بہت اچھا لگا۔سوچا کہ دو صرف تحسین کے اپنے ہاتھ سے ڈال دوں تو کچھ اس لطف کا احسان اترے۔ویسے احسانمند دل سے احسان اترتا میں نے کبھی دیکھا نہیں۔اس مضمونی میں میرے عمر ہو کے تجربے کا نچوڑ یہی ہے۔بعض اشعار تو پھولوں کی طرح کھلے ہو گئے ہیں اور رنگ و بو بھی بہار کی سی رکھتے ہیں۔میں نہیں جانتا کہ کھل جانا ان کے کہتے ہیں۔یہ کلام پڑھتے ہوئے دل سے دل لگیں جو خیالات کی ہجرت دیکھی ایک بہت پر لطف نظارہ تھا۔آصفہ بیم کی طبیعت پہلے سے تو قدرے مریم بہتر ہے مگر ابھی بیماری نے اپنا قبضہ نہیں چھوڑا۔ایک مبر از ما جد و جہد سامنے پڑی ہے جن یار کا عرصہ حمد ماه سے ایک سال تک بتاتے ہیں۔پسینہ کراچی کو بھی کبھی دعاء کے لئے یاد کرواتی ہیں۔جزاکم الله درسه خانه از اطل به 246 6۔2۔92