سیلابِ رحمت — Page 234
دے۔دشمن تو مرفوع القلم ہے اس کا کیا نام لینا۔۔۔( یہ نظم شامل اشاعت نہیں ہے ) 66 اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان میں مدحیہ نظم کہنے کی بھی توفیق ملی۔یہ نظم آقا نے پسند فرمائی: آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مدح لکھی ہے اس کے بعض شعر تو بہت ہی پسند آئے ہیں۔بہت پر اثر کلام ہے الحمدللہ۔ماشاء اللہ۔اللہ تعالیٰ مزید لکھنے کی توفیق دے خاص طور پر یہ شعر بہت پسند آئے ہیں: وہ جس دل میں بھی دیکھیں پیار سے سب خارغم چن لیں جو گل ہو اپنے دامن میں وہ نذر دوستاں کر دیں وہ، برکت جن کے کپڑوں سے اکابر بادشاہ پائیں وہ جس بستی میں رہتے ہوں اسے دارالاماں کر دیں سلام ان نیم وا آنکھوں پر رحمت بار نظروں پر کبھی دل کو کریں گھائل کبھی تحلیل جاں کر دیں ( مكتوب: 1989-12-11) 16 فروری 1989ء کے الفضل میں چھپنے والی نظم پر میرے پیارے آقا کی نگاہیں پڑیں۔میری خوش قسمتی کہ حضور نے نظم کی پسندیدگی کا خط لکھوایا۔اس نظم کے کچھ شعر پڑھئے تا کہ اندازہ ہو کہ جب مجھے یہ خط ملا ہو گا تو میری خوشی کا عالم کیا ہو گا۔آقا کا حُسنِ نظر اور 232