سیلابِ رحمت — Page 228
رحمت ہم اے غریب الوطن مسافر خدا کے وعدوں پہ جی رہے ہیں یہ فاصلوں کے دریدہ دامن ہم اپنی پلکوں سے سی رہے ہیں پیارے آقا نے اس کے جواب میں تحریر فرمایا: آپ کی ایک تنظیم کے جواب میں اپنی تک صرف قیادت برا ایک ہی شعر کہہ سکا ہوں۔وہ بھی خود بخود کراچی زبان پر آگیا۔اب منتظر ہونا کہ اس کا ساتھی در سلام خاکر لال طلبہ ایک ایر شرک نہیں ہو جائے آپ کو دو شہروں میں خلیط البس الرابع اس نظم کا جواب بھیج دوں ”آپ کی ایک نظم کے جواب میں ابھی تک صرف ایک ہی شعر کہہ سکا ہوں وہ بھی خود بخو دزبان پر آ گیا۔اب منتظر ہوں کہ اس کا ساتھی ایک اور شعر مہیا ہو جائے تو آپ کو دوشعروں میں اس نظم کا جواب بھیج دوں۔“ ( مكتوب 1985-7-17) جماعت کے حالات حساس دلوں کو اپنی گرفت میں رکھتے الہی جماعتوں پر ابتلاؤں کے بعد فتوحات کے وعدے جینے کا سامان بنتے ہیں۔خلیفہ وقت کی دُوری کا غم خوشیوں کے مواقع کو بھی حزیں بنادیتا۔ایسے میں عید کا تصور کیا کیا تصویریں دکھاتا ہے 1985ء کی عید تھی۔ایک نظم ہوگئی۔عید کے چاند سنا کون کس حال میں تھا پیارے آقا کو اس نظم کی بے ساختگی پسند آگئی۔میری تو عید ہوگئی۔دستِ مبارک سے تحریر فرمایا: 226