سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 212 of 418

سیلابِ رحمت — Page 212

سیلاب رحمت تختے درمیان میں کہیں کہیں دیہاتی طرز کے سرخ چھتوں کے مکان دھلے دھلائے خوبصورت پیر۔کہیں کہیں تاحد نظر سرسوں جیسی فصلوں کی بہار، ہر منظر انتہائی دلفریب تھا۔آسمان بادلوں سے ڈھکا ہوا۔ہلکی بارش تھی اس جزیرے کو اللہ پاک نے کتنا حسین بنایا ہے۔رشید صاحب اس رستے سے بہت مانوس تھے۔پہلے جاب کے سلسلے میں پھر اسلام آباد میں روٹی پلانٹ پر ڈیوٹی کی وجہ سے انہیں بہت دفعہ ان سبزہ زاروں کو دیکھنے کا اتفاق ہو چکا تھا۔اس لئے وہ میری محویت سے محظوظ ہوتے رہے۔اسلام آباد قدرتی طور پر درختوں سے گھرا ہوا گھاس کا وسیع میدان ہے۔جس میں حضور کی رہائش گاہ ، لجنہ کا دفتر ، الرقیم پریس، روٹی پلانٹ اور بیرکوں سے تبدیل کر کے بنائے ہوئے کچھ رہائشی مکانات ہیں۔اس جنت ارضی میں بائیں خاندان رہتے ہیں کھلی جگہ پر صاف فضا میں پھول سے بچے کھیل رہے تھے۔کچھ گھروں میں جا کر مکینوں سے محبت بھری گفتگو کا لطف لیا۔خدمت گزاروں نے مل کر جنت کا نقشہ بنالیا ہے۔روٹی پلانٹ اور رقیم پریس تفصیل سے دیکھا۔ویسے تو خاکسار دس بارہ سال سے تصنیف واشاعت کے کام سے وابستہ ہے لیکن پریس پہلی دفعہ دیکھا تھا۔دوسری دفعہ اسلام آبادعید الاضحیہ کے موقع پر گئی۔میری تو ایک عید میں کئی عید میں تھیں۔یہ بات صرف وہ سمجھ سکتا ہے جس نے پاکستان خاص طور پر کراچی میں عیدیں منائی ہوں۔عید سے چند دن پہلے یہ پیغام ملتا ہے کہ عید ایک مرکزی جگہ کی بجائے اپنے اپنے سینٹر میں ہوگی۔کبھی یہ بھی اعلان ہو جاتا ہے کہ عورتیں اور بچے عید پڑھنے نہ جائیں۔یہاں عید پر مار کی بھری ہوئی تھی۔رنگ برنگ خوش لباس خوش باش خواتین اور بچے بھر پور بہار کا منظر پیش کر رہے تھے۔بعض خواتین سے پچیس تیس سال بعد ملاقات ہوئی۔کچھ درثمین کے حوالے 210