سیلابِ رحمت — Page 134
سیلاب رحمت ہے۔یہ کتابیں ہمارے شعبہ کے لئے ایک بہت بڑا اعزاز ہیں۔اس خدمت کی سعادت ہمیں مکرمہ آیا طیبہ صدیقہ صاحبہ بنت حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کے توسط سے ملی۔آپ نے مکرم حبیب الرحمن زیروی صاحب کے تعاون سے الفضل کے فائلوں سے حوالے جمع کئے ہوئے تھے۔ہماری صدر آپا سلیمہ میر صاحبہ سے ان مضامین کی اشاعت کی خواہش کا اظہار کیا۔آپ نے حامی بھری اور یہ کام خاکسار کے سپر د کر دیا۔مکرمہ برکت ناصر صاحبہ نے مضامین خلافت لائبریری سے فوٹوسٹیٹ کروائے۔ایک نعیم بھاری بھر کم خزانہ تھا جسے ترتیب دینا تھا۔اللہ تعالی سے دعا کر کے کام کا آغاز کیا۔کام شدید محنت طلب تھا مگر پر لطف بھی تھا۔علوم کا ایک خزانہ ہاتھ لگا تھا۔مضامین اتنے متنوع تھے کہ صرف انڈیکس ترتیب دینے میں مہینہ بھر تو گا ہوگا۔پھر کتاب کے آغاز میں حضرت میر صاحب کی سیرت و سوانح بھی شامل کی۔یہ کام بھی ایک الگ مستقل کتاب ہے۔اس کا محرک حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کا ایک ارشاد بنا۔حضور نے ۳ جنوری ۱۹۹۹ء کی اردو کلاس میں فرمایا تھا: " حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل بہت قابل انسان تھے۔ان کی سیرت پر پوری کتاب شائع ہونی چاہئے۔لطیفہ گو بھی تھے بہترین سرجن اور قرآن کا گہر اعلم رکھنے والے تھے بہت قابل انسان تھے۔“ محنت کا ذکر اس لئے آجاتا ہے کہ محنت ہوئی تھی مگر تھکن یا اکتاہٹ کبھی نہیں ہوئی۔ہمیں ساتھ کے ساتھ دعا ئیں ملتیں جس سے نئی توانائی آجاتی۔جب بھی کوئی نئی کتاب آتی ہم حضور انور کی خدمت میں کتاب اس کے مصنف اور سب معاونین و معاونات کے لئے دعا کی درخواست بھیجتے۔حضور کی دعاؤں سے ہماری عید ہو جاتی۔کسی دوسرے کو ہماری خوشی کا اندازہ نہیں ہوسکتا۔اس کتاب کی وصول یابی پر حضور انور ایدہ اللہ نے تحریر فرمایا: 134