سیلابِ رحمت — Page 308
رحمت ہیں۔جن میں سے ایک آپ کی ہے۔آپ منگوالیں نہیں ، میں آپ کو خود بھجوا ؤں گا۔آپ کا تحفہ ہے، تحفے کی طرح ملنا چاہیے۔دل حمد و شکر سے بھر گیا۔پیارے آقا کی ہر کرم فرمائی مجھے غریب کے لئے نعمت غیر مترقبہ تھی۔اُن کو دلداری کا ہنر آتا تھا۔یہ سوچ سوچ کر میں نہال ہو جاتی کہ آقا نے اپنی نئی کتاب A Journey From Facts to Fiction بھجوانے کا اہل سمجھا۔کتاب ملی تو اس پر دستِ مبارک سے تحریر تھا : Amatul Bari and Nasir Sahib with best regards! and good wishes۔(M Tahir Ahmed) Frankfurt - 29-8-94 خاکسار کے ساتھ ناصر صاحب بھی بے حد خوش تھے۔حضور نے ایک and کے اضافے کے ساتھ ہم دونوں کی مسرت کا سامان فرما دیا۔دوسرا تحفہ مبارک دستخط کے ساتھ کلام طاہر تھا۔کلام طاہر پر کام کا عرصہ چار پانچ سال بنتا ہے ہر دن نئی اور انوکھی برکتیں لے کر طلوع ہوتا۔جولائی 1995ء میں کتاب طبع ہوئی تو حضور کی خدمت میں ابتدائی طور پر پچاس نسخے بھجوائے۔حضور کی ذرہ نوازی کا اندازہ لگائیے اگر چہ جانتے تھے کہ میرے پاس طبع شدہ کلام طاہر کے ایک ہزار نسخے موجود ہیں۔اپنی کتب میں سے پہلی کتاب خاکسار کو دست مبارک سے تحریر کر کے ارسال فرمائی۔جزاہ اللہ احسن الجزاء في الدنيا والاخره - اس کے بعد کلام طاہر لندن سے چھپی اس میں کچھ نظموں کا اضافہ ہوا اور ان کی گلوسری بھی بنائی۔اس میں بھی تھوڑی سی خدمت کا موقع ملا۔پیارے آقا نے از راہ شفقت اس کا بھی 306