سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 296 of 418

سیلابِ رحمت — Page 296

ہو میو پیتھی آپ کے درد آشنا دل میں درد کے کچھ دروازے ہو میو پیتھی کی پریکٹس سے بھی کھلے ایک برآمدہ تھا۔دیواروں سے لگی الماریوں میں چھوٹی چھوٹی شیشیاں تھیں۔میاں طاری تھے اور سینکڑوں مجبور ، بیمار ، لاچار بے بس ، غریب دکھی بوڑھے خواتین بچے اپنے اپنے دکھ کی داستانیں لے لے کر آتے اور میاں طاری کے آگے ڈھیر کر دیتے۔ان کو تو وہ میٹھی میٹھی سفید گولیوں میں دوا کے چند قطرے ڈال کر دے دیتے مگر اپنا دل درد سے بھر جاتا۔بے چارگی کی ساری تصویریں آپ نے دیکھیں درد کے سارے رخ آپ کی نظر سے گزرے اور اس قدر قریب سے کہ شاید ہی کوئی دوسری مثال ہو۔یہ برآمدہ ایک درسگاہ تھی۔ایک میخانہ غم تھا جو آپ کے دم سے آباد تھا۔ہومیو پیتھی کی کلاس میں سنے ہوئے بعض جملے یاد آرہے ہیں۔ایک دفعہ آپ نے فرمایا تھا کسی غریب بچے کو دوا دیتے وقت سوچیں کہ شاید یہی مٹھاس ہے جو اس کو کبھی میسر آئی ہے غربت کے ذکر میں فرمایا بعض خواتین کے پاس تقریبات کیلئے بھی لباس نہیں ہوتا اگر کوئی ایک کپڑا اچھا ہو، اسی کو نمایاں کر کے پہن لیتی ہیں۔عید پر تحائف ،غرباء کے لئے مکان ، جہیز فنڈ اسی احساس محرومی سے آگہی کا نتیجہ ہیں۔کوئی مذہب ہے سسکتی ہوئی روحوں کا نہ رنگ ہر ستم دیدہ کو انسان ہی پایا ہم نے بن کے اپنا ہی لپٹ جاتا ہے روتے روتے غیر کا دکھ بھی جو سینے سے لگایا ہم نے 294