سیلابِ رحمت — Page 291
قلب طاہر کا در داور دردمندی۔کلام طاہر کی روشنی میں اس نظر سے جس نے بند کواڑ کھول کر اندر سے جائزہ بھی لیا ہے ہر روز نئے فکر ہیں ہر شب ہیں نئے غم یارب یہ مرا دل ہے کہ مہمان سرا ہے کلام طاہر میں کئی سال ہمہ وقت ڈوبے رہنے سے کلام اور صاحب کلام سے کسی حد تک شناسائی ہوئی۔شعر و سخن میں شاعر کے اندر کا وجو د سانس لیتا ہے۔ایک ایسی توانائی جو پہاڑی چشموں کی طرح ذات کے اندر سے اپنی اصل اور مصفا صورت میں بے اختیار پھوٹتی ہے۔مجھے یہاں درد اور دردمندی کا بیکراں سمندر ملا۔آنکھ ہے میری کہ اشکوں کی ہے اک راہ گزار دل ہے یا ہے کوئی مہمان سرائے غم و حزن ہے یہ سینہ کہ جواں مرگ امنگوں کا مزار اک زیارت کہ صد قافلہ ہائے غم و حزن ایک ایسا شخص جو یادوں کی محفل میں مہمانوں کے ہاتھ تاپنے کیلئے اپنا کوئلہ کوئلہ دل 289