سیلابِ رحمت — Page 270
پر بات کا موقع مل گیا۔آپ نے فرمایا: ” میں ابھی ابھی آپ کا خط پڑھ رہا تھا۔بہت دلچسپ ہے بہت لطف آیا ہے۔آپ نے لکھا ہے میرے لفظ اور جملے اچھے لگے مگر مجھے لگ رہا ہے آپ کے زیادہ اچھے ہیں۔میں بھی ایسا ہی لکھتا ہوں۔مجھے تو لگ رہا ہے سارا خط ہی میں نے لکھا ہے۔“ حضور نے بہت پیارے انداز میں تعریف فرمائی۔سب جملے تو مجھے من وعن یا د بھی نہیں رہے۔دراصل میری کیفیت اس وقت عجیب تھی۔یہ تصور کہ حضور سے بات ہو رہی ہے۔ہر احساس پر حاوی تھا۔حضور نے بہت شفقت سے ہنستے ہوئے فرمایا: میں آپ کے روزوں والی بات بھی سمجھ گیا ہوں۔میں سیفی صاحب کو لکھوں گا آپ کا خط چھاپ دیں۔آپ بھی انہیں میرا یہ پیغام دے دیں۔“ چند منٹ کی گفتگو خوشیوں کے خزانے عنایت کر گئی۔پیارے حضور نے وعدہ پورا کیا نیم سیفی صاحب کو خط چھاپنے کی اجازت دیدی۔2 ستمبر 1991ء کا الفضل آیا تو پہلے صفحے پر سیفی صاحب کے نام اجازت والا اور ہمارا خط شان سے چھپا ہوا تھا۔حضور نے سیفی صاحب کو لکھا تھا: آپ نے درست فیصلہ کیا کہ میری اجازت کے بغیر الفضل میں میری طرف سے احباب کے نام ذاتی خطوط شائع کرنے بند کر دیئے لیکن دو خطوط ایسے ہیں جن کی اشاعت کی میری طرف سے اجازت ہے۔ان میں سے ایک آپا سلیمہ میر صاحبہ کے نام ہے کیونکہ اس کا لجنہ اماء اللہ اور مختلف جماعتوں سے تعلق ہے۔اسے بے شک چھپوا دیں۔۔۔268