سیلابِ رحمت — Page 269
سیلاب رحمت اجتماعی ملاقاتیں ہوئیں۔لجنہ کی عاملہ کے ساتھ میٹنگ اور دعوت کا انتظام ہوا۔غرضیکہ بھر پور موسم بہار گزارا تھا جس کی یادیں اکثر نشستوں میں موضوع گفتگو رہتیں۔خاکسار نے ان یادوں کو سمیٹ کر ایک مضمون ترتیب دیا جس کا عنوان تھا: المصل خوشا نصیب کہ ہم میزبان تھے اُن کے یہ مضمون پہلے الحراب صد سالہ جشن تشکر نمبر میں شائع ہوا۔پھر الفضل ربوہ نے مجتے سے یہ مضمون چھاپا۔( ا صلح کراچی کے ماہ مارچ 2004ء میں بھی چھپ چکا ہے ) پیارے حضور کی نظروں میں آیا اور آپ نے صدر لجنہ کراچی کے نام ایک تعریفی مکتوب لکھا۔اس مضمون پر المحراب میں میرا نام تھا نہ الفضل میں ،مگر میرے آقا کی فراست دیکھئے کہ پہچان لیا کس نے لکھا ہے۔دستِ مبارک سے لکھا ہوا طویل مکتوب لجنہ کے دفتر پہنچا تو سب کی خوشی دیدنی تھی اور خاکسار تو حمد وشکر میں ڈوب گئی۔آپ ہمیشہ مہربانی کا سلوک فرماتے اور ہر دفعہ توقعات سے اس قدر بڑھ کر کہ کبھی اپنی اوقات دیکھتے اور کبھی بارش کی طرح برستے آپ کے الطاف واکرام پر نازاں ہوتے۔کوئی مناسبت ہی نہیں تھی اپنی کوشش اور اُن کی داد میں۔می محض فضل خداوندی ہے۔بے اختیار دل چاہا کہ یہ قیمتی مکتوب الفضل میں چھپ جائے۔اُن دنوں خاکسار کے پھوپھی زاد بھائی نیم سیفی صاحب ایڈیٹر افضل تھے۔ایک مستقل کالم میں لوگوں کے نام حضور کے خطوط چھاپ رہے تھے۔اس لا جواب خط کا ذکر کیا تو سیفی صاحب نے بتایا کہ اب وہ سلسلہ ختم کر دیا ہے۔حضور کی اجازت کے بغیر کوئی خط شائع نہیں ہوگا۔ٹھیک ہے اطاعت لازمی ہے صبر کر لیا۔میں حضور کو خط لکھ رہی تھی آخر میں یہ بات بھی لکھ دی اور پنجابی کا ایک محاورہ لکھا: ”غریباں روزے رکھے تے دن وڈے آئے۔“ یہ خط بھیجنے کے چند دن بعد اپنی صدر صاحبہ محترمہ سلیمہ میر صاحبہ کے ہاں حضور سے فون 267