سیلابِ رحمت — Page 249
سیلاب رحمت 22 جنوری کے الفضل میں شائع ہونے والا آپ کا کلام مجھے بہت اچھا لگا۔سوچا کہ دو حرف تحسین کے اپنے ہاتھ سے ڈال دوں تو کچھ اس لطف کا احسان اُترے ویسے احسان مند دل سے احسان اُترتا میں نے کبھی دیکھا نہیں اس مضمون میں میرے عمر بھر کے تجربے کا نچوڑ یہی ہے۔بعض اشعار تو پھولوں کی طرح کھلے ہوئے ہیں اور رنگ و بو بھی بہار کی سی رکھتے ہیں۔میں نہیں جانتا کہ گھل جانا اور کسے کہتے ہیں۔یہ کلام پڑھتے ہوئے دل سے دل تک جو خیالات کی ہجرت دیکھی ایک پر لطف نظارہ تھا۔آصفہ بیگم کی طبیعت پہلے سے تو قدرے بہتر ہے مگر ابھی بیماری نے قبضہ نہیں چھوڑا۔ایک صبر آزما جد و جہد سامنے پڑی ہے جس کا عرصہ چھ ماہ سے ایک سال بتاتے ہیں۔لجنہ کراچی کو بھی کبھی کبھی دعا کے لئے یاد کرواتی رہیں۔جزاکم اللہ “ ( مكتوب 92-2-6) روزنامه الفضل 6 فروری میں آپ کی جو نظم شائع ہوئی ہے وہ بڑی پر اثر اور اعلیٰ پایہ کی ہے۔آپ کا کلام ہمیشہ ہی بہت اچھا ہوتا ہے لیکن یہ نظم تو خاص امتیاز اور شان رکھتی ہے۔جزاکم اللہ تعالیٰ۔اللہ تعالیٰ آپ کو بہتر سے بہتر رنگ میں لکھنے کی توفیق دے 247