سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 247 of 418

سیلابِ رحمت — Page 247

سیلاب رحمت ”مولا نا دوست محمد صاحب شاہد کی گرفتاری کی خبر سن کر جو نظم آپ نے کہی ہے وہ بہت ہی بلند پایہ اور پرتاثیر ہے۔نہایت دلنشین اور سلجھا ہوا کلام ہے ماشاء اللہ۔چشم بد دور۔اللہ آپ کی ذہنی و قلبی استعدادوں کو جلا بخشے اور صحت و عافیت والی خدمت سلسلہ سے معمور، فعال اور کامیاب و کامران لمبی زندگی عطا فرمائے اور ہمیشہ اپنی حفاظت و رحمت کے سائے تلے رکھے۔اللہ آپ کا حافظ و ناصر ہو۔“ ( مكتوب 90-9-1) خاکسار کی سکینت کا موجب بنے والا ایک اور مکتوب ملاحظہ ہو۔مگر اس کا لطف لینے کے لئے پہلے غزل پڑھئے : اس کے لہجے میں نگاہوں میں حلاوت دیکھی میں نے ہر سمت برستی ہوئی رحمت دیکھی کوئی تحفہ نہ تبسم سے حسین تر پایا کوئی دولت نہ محبت کی سی دولت دیکھی اپنے کھل جانے کی کچھ شرم عناں گیر رہی ورنہ کہہ دیتے کہ کیا کیا تری صورت دیکھی صبح بشاش تھی پر کیف و حسیں تھا سب کچھ رات بھر خواب میں وہ چاند سی طلعت دیکھی بارہا لب پہ ترے آیا جو میں نے سوچا دل سے دل تک یہ خیالات کی ہجرت دیکھی 245