سفر آخرت — Page 66
66 ۷۷۔کسی کے فوت ہونے پر گھر والوں کو کھانا کھلانے کے رواج کی شرعی حیثیت حضرت مرزا طاہر احمد خلیفہ اسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کسی کے فوت ہونے پر چند دن ایسے آتے ہیں کہ ان دنوں میں ملنے والے اور تعزیت والے بہت آتے ہیں انتظام کی مشکلات اور بسا اوقات فوت ہونے والے اپنے بھی ہوتے ہیں جنہوں نے نقدی پیچھے نہیں چھوڑی ہوتی اُس وقت ان کے بچوں اور بیویوں کے لئے پیسے مانگنا اور گھر کے اخراجات چلانا یہ مزاج کے خلاف بات ہے اس لئے وہ کھانا تعاون با ہمی کا اظہار ہے اگر دکھاوے سے پاک ہے۔مناسب کھانا جو ایسے موقعوں کے لئے مناسب ہو بھیجنے میں کوئی حرج نہیں ہے بعض دفعہ چاول بھی ساتھ بھیج سکتے ہیں اس لئے کہ ان دنوں بعض بیمار ہوتے ہیں اُن کے کام آجائیں اور کچھ دن کے بعد اگر میٹھا بھی بھیج دیں تکلف سے پاک رہ کر تو منع نہیں ہے لیکن جہاں بھی یہ رسمیں تکلف میں داخل ہو جائیں اور سوسائٹی پر بوجھ بن جائیں وہاں منع کرنا پڑے گا۔حد اعتدال میں رہ کر کریں اسلام کی اصل تعلیم حد اعتدال ہے۔( مجالس عرفان کراچی) -۷۸ کسی فوت شدہ عزیز کو ثواب کس طرح پہنچایا جائے فرمایا آنحضرت ﷺ کی سنت سے یہ بات ثابت ہے کہ اگر کوئی اپنی زندگی میں نیکیاں کرتا ہو اُن کو اُس کی موت کے جاری رکھنا جائز ہے اگر زندگی میں قرآن نہیں پڑھتا مرنے کے بعد اُسے بخشو ایا جائے تو یہ لغو بات ہے ایک شخص کے حضرت رسول کریم میں اللہ کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہ میری ماں صدقہ و خیرات بہت کیا کرتی تھی اس کی خواہش تھی کچھ دینے کی لیکن وہ اس سے پہلے فوت ہو گئی تو میرے لئے کیا حکم ہے؟ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم اس کی طرف سے صدقہ دو اس کا ثواب