سفر آخرت — Page 64
64 ساری چیزیں جن کا ذکر ہے سوئم ، چالیسواں گٹھلیوں پر قرآن پھونکنا، ختم قرآن باداموں پر پڑھنا ان میں سے ایک بھی چیز حضرت اقدس محمد مصطفی میں ہے اور آپ کے صحابہ اور خلفائے راشدین کے زمانے میں نہیں تھی اور اس بارے میں شیعہ، سنی روایات میں اختلاف ہی کوئی نہیں متفق علیہ میں حضرت محمد مصطفی میں یہ آپ کے صحابہ اور خلفائے راشدین کے زمانے میں یہ رسمیں نہیں تھیں تو قرآن کو اُن سے بہتر کون سمجھتا تھا ؟ قرآن سے زیادہ پیار کرنے والے بعد میں پیدا ہوئے نعوذ باللہ من ذالک قرآن کے استعمال کا اچھا طریق بتانے والے اس وقت نہیں تھے اب آگئے ؟ اس کو ہم کسی صورت مان ہی نہیں سکتے جو مرضی آپ کہیں۔آپ کہتے ہیں نعوذ باللہ تم قرآن کے دشمن ہوا اگر یہ ختم کرنا قرآن کی دشمنی ہے تو پھر حضرت محمد مصطفی ہے اور آپ کے صحابہ پر زبان کھلے گی وہ بھی تو نہیں کرتے تھے یہ گٹھلیاں اور بادام تنزل کی علامتیں ہیں جب تو میں بگڑتی ہیں تو رسم و رواج بن جایا کرتی ہیں اتنی بات تو غالب بھی سمجھ گیا تھا۔بقول غالب ہم موجد ہیں ہمارا کیش ہے ترک رسوم ملتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایماں ہو گئیں اگر تم واقعی توحید کے قائل ہو اگر تمہارا یہ دعوی ہی ہے کہ تم موحد ہو تو موحد کا یہ فرض ہے رسم و رواج کو مٹائے اور کاٹ دے ہمارا کیش ہے ترک رسوم اگر یہ نہیں کرو گے تو پھرمٹتی ہوئی امتوں کی علامتیں تمہارے اندر ظاہر ہو جائیں گی۔امتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایمان ہو گئیں پھر ایمان نہیں ہوتا۔کسی کے ہاتھ کوئی تھوڑا ایمان کا ٹکڑا آگیا کسی کے کچھ ٹکڑا آ گیا کسی نے بہت اخلاص دکھایا تو باداموں پر پھونک دیا کسی نے کم دکھایا تو کھائی ہوئی گٹھلیوں پر پھونک دیا سوچیں تو سہی کہ آپ کا دین کیا بن رہا ہے قرآن والا دین تو نہیں حضرت محمد مصطفی اللہ کا دین تو نہیں ہے۔حضرت اقدس محمد