سفر آخرت

by Other Authors

Page 18 of 84

سفر آخرت — Page 18

18 ہے اور بتایا ہے کہ یہ سلسلہ متوازی چلتا چلا جارہا ہے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ایک پردہ ہے جو دونوں جہانوں کو جدا کر رہا ہے ورنہ یہ بھی زندہ ہوتے اور وہ بھی زندہ ہوتے یہ شور مچارہے ہوتے کہ ہائے ہائے فلاں مر گیا اور مردہ یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ میں کہاں مرا میں تو اس دنیا میں زندہ موجود ہوں میں تو سمجھتا ہوں مرنے والے جب اپنے رشتہ داروں اور لواحقین کی یہ آواز میں سنتے ہونگے تو وہ بعض دفعہ ہنتے ہونگے کہ یہ کیا کر رہے ہیں تو صحابہ کو بعث بعد الموت پر ایسا کامل یقین پیدا ہو چکا تھا کہ یوں معلوم ہوتا کہ وہ مصائب میں مزہ لیتے تھے ان کی پر لطف کیفیت کو دیکھ کر مجھے مولوی عبد الکریم صاحب کا ٹھنڈا پانی پینا یاد آ جاتا ہے وہ ٹھنڈا پانی اس لطف سے پیتے تھے کہ دیکھنے والوں کو یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ بھی ساتھ ہی پانی پی رہا ہے۔ا۔موت دوسرے عالم میں جانے کا دروازہ ہے الفضل ۳۰ رمئی ۱۹۴۴ء) موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے کوئی ذی روح انکار نہیں کر سکتا پروردگار نے ایک وقت معین کر رکھا ہے جو ٹل نہیں سکتا۔انسان نو مہینے پیٹ میں رہ کر اپنے کمال وجود کو پہنچتا ہے اور مرنے کے لئے کچھ دیر نہیں لگتی حضرت مسیح موعود در وحانی خزائن جلد ہ میں فرماتے ہیں انسان مرنے کے وقت ایک ہی ہیضے کا دست تھوڑا سا پانی قے کے طور پر نکال کر مُلک بقا ہو جاتا ہے اور وہ بدن جس کی سالہائے دراز میں ظاہری اور باطنی تحمیل ہوئی تھی ایک ہی دم میں اُس کو چھوڑ کر رخصت ہو جاتا ہے موت انسان کے لئے دوسرے عالم میں جانے کا دروازہ ہے جس سے ہر ذی روح کو وقت مقررہ پر خدا تعالیٰ کی تقدیر اور حکمت کے مطابق گذرنا ہی ہے۔قرآن کے ارشاد كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ کے عین مطابق۔(روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ؟)