حضرت صفیہ ؓ بنت عبدالمطلب — Page 10
حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب 10 آپ ﷺ نے انہیں ”بطن وادی میں پایا۔حضرت حمزہ مردانہ وار لڑتے ہوئے جبیر بن مطعم کے غلام وحشی بن حرب کی برچھی سے شہید ہو گئے تھے۔جب آنحضرت ﷺ نے حضرت صفیہ کو میدان جنگ کی طرف آتے دیکھا تو ان کے فرزند حضرت زبیر کو پاس بلا کر ارشاد فرمایا:۔اپنی ماں کو آگے بڑھنے سے روکو کہ صفیہ اپنے بھائی حمزہ کی مسخ شدہ لاش دیکھ کر حواس نہ کھو دیں۔“ صلى الله رسول کریم نے نہیں چاہتے تھے کہ صفیہ اپنے پیارے اور بہادر بھائی کی لاش کو اس حالت میں دیکھیں۔حضرت زبیر نے اپنی ماں کو حضور اللہ کے اس ارشاد سے مطلع کیا تو وہ اس کا سب سمجھ گئیں اور کہا:۔مجھے معلوم ہو چکا ہے کہ میرے بھائی کی لاش بگاڑی گئی ہے۔لیکن یہ سب کچھ خدا کی راہ میں ہوا ہے خدا کی قسم مجھے یہ پسند نہیں لیکن میں اس مصیبت پر صبر کروں گی اور انشاء اللہ ضبط سے کام لوں گی ، اور اس کے ثواب کی امید رکھوں گی۔“ على الله حضور و حضرت صفیہ کے جواب سے آگاہ ہوئے تو آپ ہو نے انہیں حضرت حمزہ کی لاش دیکھنے کی اجازت دے دی اور کہا کہ ان کا راستہ چھوڑ دو۔آپ روتی ہوئی لاش پر آئیں اور اپنے پیارے بھائی کے جسم کے ٹکڑے بکھرے دیکھ کر ایک ٹھنڈی آہ بھری اور إِنَّا اللَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون