حضرت صفیہ ؓ بنت عبدالمطلب — Page 9
حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب 9 کی۔حضرت صفیہ نے کہا کہ اچھا جاؤ اس کا سرکاٹ کر قلعہ کے نیچے پھینک دو۔حضرت حسان نے اس کام سے تامل کیا تو حضرت صفیہ نے خود ہی اس کا سرکاٹ دیا اور قلعہ سے نیچے پھینک دیا۔بنو قریظہ کے لوگوں نے جب اس یہودی کا کٹا ہوا سر دیکھا تو انہیں یقین ہو گیا کہ قلعہ کے اندر بھی مسلمانوں کی فوج موجود ہے۔چنانچہ انہیں قلعہ پر حملہ کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔(8) اس طرح حضرت صفیہ کی شجاعت، بے خوفی اور بہادری نے ایک بڑا خطرہ ٹال دیا اور تمام مسلمان عورتوں اور بچوں کو یہودیوں کے ظلم سے بچا لیا۔انہوں نے اپنی دور اندیشی اور حکمت عملی سے نہ صرف یہودیوں کو مرعوب کیا بلکہ یہ بھی ثابت کر دیا کہ مسلمان مجاہدات ضرورت پڑنے پر میدان جنگ میں اپنا کردار بھر پور طریقے سے ادا کر سکتی ہیں۔آپ کی اس حکمت عملی سے یہودیوں کے ارادے ملیا میٹ ہو گئے۔صلى الله چنانچہ حضور اکرم ﷺ نے انہیں مال غنیمت میں حصہ عطا فر مایا۔حضرت صفیہ نے جس وقت اس بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا اس وقت اُن کی عمر 58 برس کے لگ بھگ تھی۔(9) غزوہ اُحد کے وقت جب آنحضور اللہ تک حضرت حمزہ کی شہادت کی خبر پہنچی تو رسول اللہ ﷺ خود انہیں ڈھونڈ نے نکلے۔