سفر یورپ 1924ء — Page 67
۶۷ لکھے آدمی ، امرا اور علماء کی ہیں سے زیادہ کی جماعت ہوٹل میں جمع ہوئی۔ایک نصرانی بھی آ گیا۔بعض نے حضرت سے سوال کیا کہ کیا آپ پر بھی وحی نازل ہوتی ہے۔حضور نے فرمایا کہ ہاں بعض بعض دن مگر میں نبی نہیں ہوں۔سیدنا حضرت مہدی نبی تھے میں نبی نہیں ہوں مجھ پر بشارت کے طور پر وحی نازل ہوتی ہے۔ان دیار میں مسیح موعود کے لفظ سے بعض کو شبہ ہوتا ہے کہ ہم لوگ نصرانی ہیں اس وجہ سے لفظ مہدی معہود کو زیادہ زور سے اور پہلے بیان کیا جاتا ہے۔تقریر کے بعد لوگوں نے کچھ لٹریچر مانگا مگر لٹریچر ہمارے ساتھ نہ تھا آخر عر بی ٹیچنگز آف اسلام ایک عیسائی کو دی گئی منت سماجت سے لی - حماء کا ایک لمبے قد کا آدمی جس کا پتہ لکھ لیا گیا ہے حضرت سے جھگڑتا تھا کہ نصرانیوں کو کتاب دی مگر مسلمانوں کو نہ دی حالانکہ حق ہمارا زیادہ ہے۔حضرت نے فرمایا نہیں عیسائی کو ایک اور مسلمان کو دو دی ہیں اور یہ کتاب ہے بھی نصاری کے واسطے۔خاص کر مسلمانوں کے واسطے مصر سے انشاء اللہ بھیج دیں گے مگر اس نے جھگڑا کیا اور گویا لحاف بن کر مانگی حتی کہ ایک کتاب اس کو دی گئی۔کتاب لے کر بہت خوش ہوا اور لوگوں کو بتایا کہ میں نے بھی لے لی ہے۔بعد میں کھڑے ہو کر ادب سے عرض کیا حضور میں نے آپ کو دین کا خادم پایا ہے۔جو غیرت اور حمیت آپ میں اسلام کے واسطے ہے میں نے آج تک دنیا میں کسی میں نہیں دیکھی نہ میں نے نہ میرے باپ نے۔میں حضور کو مبارک باد عرض کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور کام میں برکت دے۔میں ایمان لایا۔میں نے قبول کیا۔آپ نے جو دعویٰ سنایا ہے حق ہے۔میں کوشش کروں گا کہ اپنے علاقہ میں اس حق کو پہنچاؤں وغیرہ وغیرہ۔دو تین مرتبہ جوش کھا کھا کر آگے بڑھا اور اسی قسم کی باتیں کیں۔لوگوں نے اپنے ایڈریس شوق اور اصرار سے دیئے۔ان میں بہت سے لوگ واقعی بڑے بڑے آدمی تھے۔اللہ کے فضل سے آج وہ رنگ پیدا ہو گیا ہے کہ سلسلہ کے حالات جلدی شائع ہو جائیں گے۔بعض اخبارات میں انشاء اللہ آج بعض میں کل سلسلہ کے حالات شائع ہو جائیں گے۔حضرت اقدس نے جو اشتہار لکھا ہے وہ بھی انشاء اللہ شائع ہو کر کام کرے گا۔حضور نے نماز ظہر وعصر