سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 471 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 471

جہاز کی رفتار کے مخالف ہے اس وجہ سے خطرہ ہے کہ جہاز کی رفتار بھی کم ہو جائے گی اور اس طرح بمبئی پہنچنے میں اور دیر۔۱۷/ نومبر ۱۹۲۴ء : صبح کی نماز میں حضور تشریف نہیں لا سکے رات کچھ تکلیف رہی۔ہوا کی تیزی کی وجہ سے جہاز بیچ (Pitch) بھی کرتا رہا ہے اور رول بھی کر رہا ہے۔مولوی عبد الرحیم صاحب نیر کل عصر سے پڑے ہیں جگہ سے ہلنا پسند نہیں کرتے۔آج تو بالکل طلوع ہی نہیں فرمایا با دلوں ہی میں ہیں۔رحمد بن بھی بے چارہ گرتا نظر آتا ہے۔بہت ہی ہمت کر کے صرف چائے بنا کر لایا ہے مگر اس کا چہرا بتاتا ہے کہ آخر لیٹ کر ہی رہے گا۔جہاز میں اور بھی لوگ سی سک نس میں مبتلا ہور ہے ہیں۔اللہ رحم کرے آخری دن آن کر سمند را پنا آپ دکھانے لگا ہے۔افسوس کہ احمدین بھی آخر لیٹ ہی گیا۔حضور آج آٹھ بجے تشریف لائے ہیں۔ناشتہ میں خود تیار کر رہا ہوں۔حضور کی طبیعت کچھ ست سی ہے۔اللہ تعالیٰ فضل کرے۔ناشتہ پیش کیا تو فرمایا ڈاکٹر صاحب سے پوچھ لو کوئی دوائی دینی ہو تو دے لیں مگر انہوں نے کہا کہ ناشتہ دے دو۔حضور کوئی آدھ گھنٹہ بعد ناشتہ فرما کر جہاز کا انجن دیکھنے کو تشریف لے گئے۔انجینئر خود آیا ہے تا کہ حضور کے ساتھ ہو کر اچھی طرح سے جہاز اور اس کے انجن وغیرہ دکھائے۔پانچ پانچ ہزار گھوڑوں کی طاقت کے دو انجن جہاز میں ہیں۔ایک کام کرتا ہے دوسرا آرام۔خدانخواستہ ایک میں کوئی نقص واقع ہو جائے تو دوسرے سے کام لیا جا سکے یا کسی جگہ زیادہ طاقت کی ضرورت پیش آ جائے تو روک نہ ہو۔اس وجہ سے دو الگ الگ انجن رکھے ہوئے ہیں۔انجن سطح سمندر سے ۱۸ فٹ نیچے پانی کے اندر تک ہیں۔آج رات کی مخالف ہوا کی وجہ سے رفتار میں جو کمی واقع ہو گئی ہے اس کے پورا کرنے کی غرض سے دونوں انجن چلا دیئے گئے ہیں۔رحمد بن بے ہوش و بے سرت پڑا ہے اس طرح ہم آٹھ آدمیوں کی تو گویا ماں بیمار پڑگئی ہے۔اللہ رحم کرے۔میں آلو ابال کر لایا ہوں۔ڈاکٹر صاحب کاٹتے ہیں۔چوہدری علی محمد صاحب چھیلتے ہیں کوئی نمک لا یا کوئی مرچ کسی نے ترشی بنائی کوئی برتن لایا۔آٹھوں ملے تب جا کر ایک آدمی کا کام ہوا ہے۔سب نے مل کر پلا ؤ زردہ سمجھ کر کھایا اور خداوند کریم کا شکر بجالائے۔ٹھیک ہے قدر