سفر یورپ 1924ء — Page 33
۳۳ ہاں میں یہ عرض کرنا بھول گیا تھا کہ حضور کا یہ بھی منشا ہے کہ اصحاب الکہف کے اُس مقام پر تشریف لے جائیں اور دعا کریں جو حضور کی تحقیقات کے مطابق اٹلی میں بصورت زمین دوز غاروں اور وسیع شہروں کے معلوم ہوئی ہے۔یورپ کے تمدن کا مقابلہ : حضور نے بیان فرمایا کہ یورپ کے متعلق مجھے اس بات کا خطرہ اور فکر نہیں ہے کہ ان کا مذہب کیوں کر فتح کیا جائے گا۔مذہب کے متعلق تو مجھے یقین ہے کہ عیسائیت اسلام کے سامنے جلد تر سرنگوں ہو گی۔مجھے اگر فکر ہے تو صرف یہ ہے کہ یورپ کا تمدن اور یورپ کی ترقی Intellectual ( دفاعی ترقی ) کا کیوں کر مقابلہ کیا جاوے۔یہی دو باتیں ایسی ہیں کہ میں راتوں کو اس فکر میں گزار دیتا ہوں ، گھنٹوں اس بچار میں پڑا رہتا ہوں۔ان اقوام کا یہ اصول ہے کہ تمام وہ چیزیں جو ترقی کرنے والی قوم کے راستہ میں روک ہیں ان کو ہٹا دیا جاوے اور اس کے واسطے اکثر انہوں نے سینکڑوں نہیں بعض اوقات ہزاروں جانوں کو بھی ضائع کرنے سے دریغ نہیں۔کیا وہ کہا کرتے ہیں کہ اگر جنگلی جھاڑیوں کو کاٹ کر ان کی بجائے پھل اور پھول پیدا کرنے والے درخت لگا دیئے جائیں تو کیا حرج ہے اور کس کو اعتراض ہے۔اس اصل کے ماتحت ان لوگوں نے بعض جگہ عورتوں اور بچوں تک کے قتل سے دریغ نہیں کیا۔بھا گئی عورتیں قتل کی گئیں۔ان لوگوں کی کتابیں اور مضامین میں نے پڑھے ہیں۔ان لوگوں نے اب ایشیا کو پھاڑنے کی غرض سے ایک سکیم بنائی ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ سنگا پور سے اب یہ حملہ کریں گے اور ایشیا کو دو ٹکڑے کر کے الگ الگ ان کو مفتوح کرنے کی کوشش کریں گے۔بہت ہی باریک اور وسیع سکیم ہے۔اس کے مقابلہ میں میں نے سوچا ہے کہ ایشیا کو ابھی سے تیار کرنا چاہیے ورنہ ایشیا کی ہستی بالکل اب معرض خطر میں ہے۔ایک تجویز تو میں نے یہ سوچی ہے کہ ایشیا اپنے تمدن پر سختی سے قائم ہو جائے اور اس کے خلاف یورپ کے تمدن اور ان کے لباس کو ترک کر دے۔اپنی آئندہ نسلوں کے دلوں میں اس بات کے لئے ایک حمیت اور غیرت پیدا کرنے کی کوشش کی جاوے کہ ہمارا تمدن ، ہمارا لباس ان لوگوں سے اعلیٰ ہے اور ہم ان کے مقابلہ میں ان سے معزز تر ہیں۔ان خیالات کے پیدا ہو جانے کا یقینی نتیجہ یہ ہوگا کہ پھر یورپ کا افسون ایشیا پر ہرگز ہرگز کارگر نہ ہو گا۔