سفر یورپ 1924ء — Page 417
۴۱۷ آباد ہیں۔جھیل کے اندر بعض چھوٹے چھوٹے جزیرے بھی ہیں مگر بالکل آباد- کنارے بہت خوبصورت بنائے گئے ہیں۔درمیان میں بڑے بڑے پہاڑ بھی جزیرے کے طور پر ہیں۔ریل اس کے کنارے کنارے جارہی ہے اور میلوں تک اسی طرح جارہی ہے۔کئی سٹیشن گزرچکے ہیں۔چھوٹی چھوٹی کشتیاں بھی جھیل میں اِدھر اُدھر دوڑتی پھرتی ہیں۔سورج نکلا اور بادل پھٹ گیا جس سے اس نظارہ کی خوبصورتی میں اور بھی اضافہ ہو گیا ہے۔مدتوں کے بعد دھوپ کا یہ نظارہ دیکھنا ملا اور سورج بھی ایسے مقام پر نکلا ہے جو بہت ہی پیارا مقام اور خوبصورت قطعہ ہے۔سورج کی روشنی سے چاروں طرف کے مکانات میں ایک چمک پیدا ہو کر عمارات کی خوبصورتی دوبالا ہوگئی ہے۔ایک ہوائی جہاز بھی جھیل کی سیر کراتا پھرتا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ مقام اس علاقہ میں خاص طور پر سیر گاہ ہے اور لوگ سیر و تفریح اور آرام کے لئے یہاں جمع رہتے ہیں۔مکرمی چوہدری ظفر اللہ خان صاحب بتاتے ہیں کہ حضرت نے اس مقام کو دیکھ کر فرمایا کہ یہاں تو صحت دو ہی دن میں اچھی ہو جاتی ہوگی اور پھر فرمایا کہ اب تو گھر کو جار ہے ہیں مصر والوں سے وعدہ کیا تھا وہ بھی اب تو پورا نہیں ہو سکتا۔اس وعدہ کے پورا کرنے کو پھر ایک بار آنا ہی پڑے گا۔جب مصر آ ئیں گے تو اس جگہ کو بھی ضرور دیکھیں گے وغیرہ وغیرہ) گاڑی ہماری ڈیڑھ گھنٹہ کے قریب لیٹ جارہی ہے۔اندیشہ ہے کہ اگلی گاڑی مس (Miss) کر دیں گے اور اس طرح سے بجائے شام کو پہنچنے کے آدھی رات کو منزل مقصود پر پہنچیں گے۔میلان کا اسٹیشن آیا۔واقعی وہ گاڑی جاچکی ہے جس سے اگر جاتے تو ساڑھے سات بجے شام کو وینیس جا پہنچتے۔سامان اُتارا گیا۔حضور مع چوہدری ظفر اللہ خان صاحب ، حضرت - میاں صاحب اور چوہدری محمد شریف صاحب شہر کو تشریف لے گئے ہیں۔لوگ کثرت سے ہمارے گرد جمع ہیں اور ایک حلقہ بنائے کھڑے ہیں۔تعجب ہے کہ تھکتے بھی نہیں شاید فرصت کا وقت ہماری زیارت ہی میں صرف کرنے گھروں سے نکلے ہیں۔قلی اور با بوٹی کہ ریلوے اتھارٹیز بھی ہجوم کو دیکھ کر آ جاتی ہیں۔گاڑیوں کے مسافر کھڑکیوں سے بے تابانہ سر نکال نکال کر اجنبی مسافروں کو دیکھتے اور حیرت و استعجاب سے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں اور اس طرح ایک