سفر یورپ 1924ء — Page 342
۳۴۲ لیکچروں کو اٹینڈ (attend) کیا ہے وہ بھی کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔آپ خود آتے تھے اور آپ کے ساتھی بھی آتے تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو کانفرنس کے اغراض اور حقیقی سپرٹ سے پورا اتفاق تھا جس کو آپ نے قول اور فعل دونوں سے ظاہر فرمایا اور یہ وہ بات ہے جس کی مثال اور کسی میں نہیں پائی گئی اور یہ وہ چیز تھی جو آپ کے دلوں کے اندر کی چیز کو ہمارے سامنے لاکھڑا کرتی اور ہمارے دلوں پر ایک مضبوط گرفت کرتی رہی ہے۔اس نے حضرت اقدس کی تعریف میں ایک فقرہ بولا جو مجھے بعینہ مل گیا ہے۔لکھتا ہوں۔اس نے کہا کہ۔۔۔Very cultured and refined gentleman۔اس کے بعد مس شار پلز نے جو کانفرنس کی سیکرٹری ہیں کہا کہ اگر آپ بہ نفس نفیس نہ تشریف لاتے تو ہماری کانفرنس کو پوچھنا کس نے تھا۔یہاں تو مذہبی حس ہی مر چکی ہے۔ادھر توجہ ہی کسے ہوتی تھی۔آپ تشریف لائے اور لنڈن میں دھوم مچ گئی۔لوگوں کی توجہ کا نفرنس کی طرف پھر گئی اور کا نفرنس کو یہ کامیابی نصیب ہوئی۔ہمیں یہ دن ہرگز نہ بھولیں گے۔اور کبھی نہ بھولیں گے۔مس شار پلز کے آخری فقرہ پر حضرت اقدس نے فرمایا۔مگر ہمیں بھی آپ لوگوں کا پردوں میں سے جلسہ کی حالت کو جھانک جھانک کر دیکھنا کبھی نہ بھولے گا۔( دراصل ان لوگوں کو ان کی امید خیال اور وہم سے بھی بڑھ کر کامیابی حاصل ہوئی۔وہ عموماً جلسہ گاہ کے دوسرے حصہ میں رہتے تھے جدھر سے لوگ آتے جاتے تھے۔گاہ گاہ جھانکا کرتے تھے کہ اندر کیا حالت ہے۔لوگ جم کر سن رہے ہیں یا نہیں ) الغرض کل کی ٹی پارٹی بھی بہت ہی کامیاب ہوئی ، مؤثر ہوئی اور انشاء اللہ اس کے شیر میں اثمار بھی خدا تعالیٰ دکھائے گا۔تقریر کے بعد فوٹو لیا گیا مگر حضرت کے ارشاد پر یہ تجویز کی گئی کہ کرسیوں پر تمام عورتیں بٹھا دی گئیں اور مرد قریباً سب کھڑے رہے۔کیمرہ نہایت اعلیٰ قسم کا تھا۔خود بخود پھرتا تھا اور لمبی تصویر ا ورصاف بنا تا تھا۔عورتوں نے اس عزت اور قدردانی کو بڑی قدر کی نظر سے دیکھا اور بول اٹھیں کہ یورپ