سفر یورپ 1924ء — Page 279
۲۷۹ بے حسابی کے علاج کے لئے مجھے چھاتی سے لگا کر خوب بھینچا ہے جس سے میں بیدار ہو گیا جس سے میں سمجھا تھا کہ اس بے حسابی کا علاج ہو گیا ہے مگر ابھی تک اس کے نتیجہ کی انتظار میں ہوں وہ بظاہر پورانہیں ہوا خدا جانے کب پورا ہوگا۔۔حضرت اقدس نے مسکرا کر فرمایا۔شاید اس کی تعبیر یہ ہو کہ حساب دوستاں در دل مگر پھر جو اُن سے کسی نے حساب مانگا تو انہوں نے حضرت اقدس کے سامنے شکایت کی۔اس پر حضور نے فرمایا۔ان کو حساب جو سکھانا ہوا۔ان سے اگر کوڑی کوڑی کا حساب نہ پوچھا جائے گا تو وہ حساب رکھنا سیکھیں گے کیسے؟ غرض یہ تمام باتیں سبق آموز ہیں۔ایک امر قابل اصلاح تھا اس کی اصلاح حضور کو مقصود تھی۔اس کے لئے کیسی پیار اور محبت بھری ترکیب حضور نے اختیار کی۔ہنستے ہنستے اور باتوں باتوں میں حضور بہت سے امور اسی طرح سے بطور نصیحت فرما جاتے ہیں۔۱۷ ستمبر ۱۹۲۴ ء : صبح کی نماز میں حضور تشریف نہ لائے۔ڈاکٹر صاحب کے ساتھ مل کر اپنے ہی کمرہ میں نماز ادا کی۔پونے کو بجے ٹھیک حضور ناشتہ کے لئے آج بہت دنوں کے بعد تشریف لائے۔اندر یہ گفتگو تھی کہ ناشتہ کا وقت گزر رہا ہے اور دوست آئے نہیں۔قادیانی کہہ رہا تھا کہ میں نے ۹ بجے ڈاک کی ڈیوٹی پر چلے جانا ہے وغیرہ - حضور دفعتہ آئے اور فرمایا ”لو دو اور آ گئے ہیں“۔مولوی محمد دین صاحب بھی حضور کے پیچھے پیچھے آتے تھے۔ہندوستان کی ڈاک کے بعض حصے آج وصول ہوئے۔حضور نے آج بھی فرمایا کہ انشاء اللہ تعالیٰ ۲۶ / یا ۲۷ رکو یہاں سے واپسی کا ارادہ ہے۔دوستوں کے عرض کرنے پر حساب کرایا کہ قادیان کی ڈاک اگر دوست براہ راست اس مکان کے پتہ پر ارسال کریں تو ہماری واپسی کے دن تک پہنچ سکتی ہے یعنی ۱۸ ستمبر کی ڈاک کے خطوط کے جوابات قادیان سے آ سکتے ہیں۔الفضل میں ایک نظم پڑھ کر فرمایا کہ نظم بالکل غلط ہے۔الفضل کیوں ایسی نظموں کو چھاپ دیتا ہے۔اس سے تو اخبار کی بھی بہتک ہوتی ہے اور بعض باتیں تو اس میں قادیان اور حضرت مسیح موعوڈ پر اعتراض ہیں بلکہ کفر تک بھی بن جاتی ہیں۔آسمان پر گہن والا شعر ماہ رمضان میں گہن آپ