سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 278 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 278

۲۷۸ وہ کام کرے اور پورا وقت کیا کرے۔( حافظ صاحب نے اس کا نام ڈھینگری رکھا ہوا ہے ) حافظ صاحب نے عرض کیا حضور وہ تو ڈھینگری ہے۔آتے جاتے کو چمٹ جاتی ہے۔حضور نے یہ سن کر دوستوں کو حکم دیا کہ اس کے پاس کوئی نہ جایا کرے کام میں حرج ہوتا ہے اور پھر کل تو اس امر کی نگرانی بھی حضور نے خود توجہ دے کر فرمائی۔دو تین مرتبہ جانچا کہ وہ کام کرتی ہے یا خالی ہے اور کہ حضور کے حکم کے بعد کون اس کے پاس جا کر گئیں ہانکتا ہے۔کچن پر کنٹرول اور میانہ روی کی حضور بارہا تاکید فرماتے ہیں۔اخراجات میں نسبتا کمی بھی ہوگئی ہے۔اس ہفتہ کا پل باوجود مہمانوں کی زیادتی کے صرف ۲۳ پونڈ نکلا ہے۔انگلش فیشن اور دیسی کھانا دونوں میں بہت احتیاط ہو رہی ہے ایسی کہ بعض اوقات دوست بول اُٹھتے ہیں کہ بھائی جی اس سے زیادہ کم خرچی کا خیال نہ کر لینا۔کھانے والوں کی اوسط ۳۰ کے قریب رہتی ہے۔۱۳ ہم ہیں ، جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اور ان کا دوست جرمن شاہزادہ :۲ مولوی محمد دین صاحب، حکیم فضل الرحمن صاحب اور حافظ صاحب کا ایک مہمان بھائی :۳ مولوی نیز صاحب، ملک غلام فرید صاحب ، غلام حسین ماریشس ، علی محمد صاحب سیٹھ ، خدا بخش جہلم : ۵ ملا زم : ۴ کس اور متفرق آنے والے مہمان ملاقاتی یا دوست بھی۔الغرض کل تعداد اوسطاً ۳۰ کی رہتی ہے۔ہمارے چوہدری فتح محمد خان صاحب عموماً حساب نہیں رکھ سکتے۔ایک دوست سناتے تھے کہ انہوں نے مولوی مبارک علی صاحب سے پوچھا کہ آج کل تو اخراجات پر اتنا کنٹرول کیا جاتا ہے اور پائی پائی کی سوچ بچار ہوتی ہے چو ہدری فتح محمد خان صاحب کے زمانہ میں کیا ہوتا تھا ؟ مولوی صاحب نے کہا کہ اس وقت ہم ایک بادشاہ کے ماتحت ہیں۔اس سفر میں بھی ان سے بعض اوقات حساب رکھنے والے حساب مانگ لیا کرتے ہیں اور ان کی بے حسابی کی بات حضرت صاحب تک بھی پہنچ جایا کرتی ہے۔میں نے ان کو ملکا نا وار میں دیکھا ہے سچ سچ حساب نہیں رکھ سکتے۔اپنی جیب سے انہوں نے کئی سو روپیہ خسارہ دیا ہے۔چنانچہ چوہدری صاحب کا واقعہ ہے کہ انہوں نے بمقام پورٹ سمتھ حضرت اقدس کے حضور بڑے ادب سے محبت بھرے لہجہ میں عرض کیا کہ حضور میں نے مدت ہوئی ایک خواب دیکھا تھا وہ اب تک پورا نہیں ہوا نہ معلوم کیا وجہ ہے؟ خواب یہ تھا کہ مجھے حساب نہ رکھ سکنے کی خود بھی اپنے اوپر شکایت ہے۔میں نے خواب میں دیکھا کہ حضور نے اس