سفر یورپ 1924ء — Page 277
۲۷۷ طلب کام ہو گیا۔خلیفہ تقی الدین صاحب کا تار پہنچ گیا ہے غالباً کل کسی وقت پہنچیں گے۔برائین کے غربا اور مساکین وغیرہ کی امداد کے واسطے حضرت اقدس نے ۱۵ پونڈ بھجوانے کا حکم دیا جو غالبا بھیجے بھی گئے ہیں۔بعض غریب طلباء کی بھی حضور نے مدد کی جو کسی نہ کسی وجہ سے مقروض اور زیر بار تھے۔ایک کو تین پونڈ دوسرے کو ایک پونڈ عطا فرمایا۔فقیر یہاں خالی مانگتے نہیں پھرتے کچھ شغل رکھتے ہیں مثلا ریڑھی پر با جالئے پھرتے ہیں۔در بدر بجاتے ہیں یا دیا سلائی فروخت کرتے پھرتے ہیں یا اسی طرح کے بعض اور طریق ہیں جن کو لے کر خاموش بیٹھے رہتے یا کھڑے رہتے ہیں۔ایک شخص کو میں نے دیکھا گلے میں ایک بور ڈ لگایا ہوا تھا جس پر لکھا تھا - Quiteblind ( یعنی کہ یہ شخص نابینا ہے ) وغیرہ وغیرہ حضور ایسے مساکین اور سائلوں کو بھی کچھ خیرات دیا کرتے ہیں۔خیرات مانگنا اس ملک میں ممنوع ہے۔ایک ٹائپسٹ ۳ پونڈ ہفتہ وار پر رکھی ہوئی ہے بہت ہی باتونی ہے۔آنے جانے والے دوست اکثر اس کے پاس جمع رہتے ہیں اور کام میں حرج ہوتا ہے۔کبھی وہ فون کو لے کر بیٹھ جاتی ہے کام کرے تو بہت جلدی کر لیتی ہے۔پرسوں اس نے کام بہت تھوڑا کیا۔مولوی محمد دین صاحب نے اس کو ڈانٹا اور کہا کہ آج میں تمہیں جانے نہ دوں گا جب تک کام کو پورا نہ کر لو گی چنانچہ اس نے اپنے اصل وقت سے زیادہ کام کیا اور اس کو اوور ٹائم میں محسوب کیا۔حضرت اقدس نے مولوی صاحب سے پوچھا کہ آج کونسا زیادہ کام تھا کہ آپ نے ٹائپسٹ کو اوور ٹائم کے لئے کہا۔انہوں نے عرض کی حضور میں نے تو نہیں کہا البتہ یہ بات ہوئی تھی اس سے اس نے اپنے مطلب کی بات نکال لی ہوگی۔میں تو یہ کہہ کر پریس کو چلا گیا مجھے علم نہیں پیچھے کیا ہوا اور کیوں اس نے اوور ٹائم کا مطالبہ کیا۔حضرت اقدس نے فرمایا اس نے آج آپ کو دو طریق سے لوٹا۔کام نہ کر کے بھی اور کر کے بھی۔کام نہ کیا کھیلتی رہی۔کام کیا تو اوور ٹائم میں محسوب کر لیا۔اس کی نگرانی ضروری ہے۔