سفر یورپ 1924ء — Page 276
کرتے ہیں اور جب دیکھتے ہیں کہ وہ جلدی نہیں پہنچتا تو یکہ کو چھوڑ کر پیدل چلنا شروع کر دیا کرتے ہیں کہ شاید ہم پیدل اس سے جلدی پہنچیں گے مگر پیدل چلنے میں وہ آگے نکل جایا کرتا ہے تو پھر اسے بلانا پڑا کرتا ہے کہ ٹھہر ٹھہر و بیٹھ جانے دو۔پیچھے رہ کر اس رفتار کا اندازہ ہوا کرتا ہے۔ان حالات میں نہ معلوم کہ دوستوں کی درخواستوں کا کیا جواب دیا جائے اگر کوئی ہوائی جہاز ہو تو شاید جلدی سے سب کی خوشی پوری کی جا سکے۔مکرمی چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے عرض کیا حضور بمبئی میں تو صرف کشم والے ہی دیر کیا کرتے ہیں اگر ایسا انتظام کرایا جاوے کہ معمولی ہینڈ بیگ وغیرہ کے سوا باقی سامان کے لئے دو تین دوستوں کو بمبئی چھوڑ دیا جاوے تو فوراً روانگی ہو سکتی ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ پیچھے رہنے والوں کے دل قادیان کے لئے کیا کچھ کم مشاق ہوں گے؟ کھانا شام کا حضرت اقدس نے نماز شام سے پہلے تناول فرمایا۔مسٹر داس گپتا آج پھر آئے۔ان سے حضور نے فرمایا کہ امریکہ کے متعلق ہم نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ سر دست اس کو ملتوی کر دیا جاوے۔اللہ تعالیٰ جب احمدیت کو ترقی دے گا تو پھر ہمیں آنے کی ضرورت ہوگی اس وقت انشاء اللہ تعالیٰ امریکہ کا سفر کر لیا جائے گا۔آج ظہر کی نماز میں ایک غلطی ہوئی۔نماز بجائے چار کے تین رکعت ہوئی ہیں مگر کسی نے سبحان اللہ نہ کہا ہر ایک نے یہی سمجھا کہ شاید میری ہی غلطی ہو۔نماز ہو چکی سلام پھر گیا حضرت اقدس نے سنتیں پڑھنی شروع کر دیں۔اس وقفہ میں ایک دوسرے سے اور دوسرا تیسرے سے پوچھنے لگے کہ تین رکعت ہوئی یا چار کعت۔سب نے یہی کہا کہ تین ہوئی ہیں۔میں تو سبحان اللہ کہنے لگا تھا مگر میں نے بھی سمجھا شاید میری ہی غلطی ہو۔حضور نے سنتوں کا سلام پھیرا تو عرض کیا گیا۔فرمایا مجھے تو چار ہی کا خیال ہے۔ایک سے پوچھا۔دوسرے سے دریافت کیا تو معلوم ہوا سب تین پر متفق ہیں۔آخر حضور نے کھڑے ہو کر ایک رکعت ادا کرائی اور سجدہ سہو کیا۔سنت جو ہو چکی تھی وہ ہو گئیں بعد میں سنت کو ئی نہیں پڑھی۔رات کو بھی حضور کا نفرنس والے مضمون کی دیر تک درستی اور ترتیب میں مشغول رہے اور بہت دیر کر کے سوئے۔جوڑ تو ڑ کرنا اور سیاق و سباق کو قائم رکھ کر اہم حصص کا قائم رکھنا بہت محنت