سفر یورپ 1924ء — Page 244
۲۴۴ نے اسی لئے دنیا میں بھیجا ہے کہ میں دنیا کو اس یقینی ایمان کا پتہ دوں جس کے بغیر انسان گناہ سے نہیں بچ سکتا اور ان کے دلوں میں ایسی کامل محبت پیدا کروں جس کے بغیر انسان سچی قربانی نہیں کرسکتا۔ہے۔چوتھی بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ نبی بھی دوسرے انسانوں کی طرح ایک انسان ہوتا اس کے وجود کو ایک عام طبعی قانون سے بالا کوئی کرشمہ نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ خدا تعالیٰ نے سب انسانوں کو یکساں طاقتیں دی ہیں اور ہر انسان کی ترقی کے لئے دروازہ کھلا رکھا ہے۔جو بھی خدا تعالیٰ کے لئے کوشش کرے اعلیٰ ترقیات کو حاصل کر سکتا ہے اور معرفت کے دروازے اس کے لئے کھولے جا سکتے ہیں۔پس کسی انسان کو اپنی پوشیدہ طاقتوں کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ ان کو استعمال کر کے روحانی ترقیات کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے اور خدا تعالیٰ سے براہ راست تعلق پیدا کرنے اور اس سے کامل یگانگت پانے کی جد و جہد میں کو تا ہی نہیں کرنی چاہیے۔پانچویں بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ مذہب کی یہ غرض نہیں کہ وہ ہم کو دنیا سے علیحدہ کر دے اور خدا تعالیٰ سے ملنے کی یہ شرط نہیں کہ ہم دنیا سے قطع تعلق کر لیں بلکہ مذہب کا کام یہ بتانا ہے کہ ہم کس طرح دنیا میں رہ کر پھر خدا تعالیٰ سے کامل تعلق پیدا کر سکتے ہیں۔خدا تعالیٰ اس طرح نہیں ملتا کہ ہم دولت اور مال اور تعلقات کو چھوڑ دیں بلکہ اس طرح ملتا ہے کہ ہم ہر قسم کے حالات میں اس سے تعلق مضبوط رکھیں۔خواہ خوشی کا موقع ہو خواہ رنج کا۔خواہ ترقی کی حالت ہو خواہ تنزل کی۔خواہ نفع ہو خواہ نقصان ہو جائے ہر حالت میں ہم اس کی طرف توجہ رکھیں اور اس کی رحمت سے مایوس نہ ہوں اور اس کی محبت بڑھائیں اور اس کے حضور میں دعائیں کرنے میں کوتا ہی نہ کریں۔بہادر وہ نہیں ہوتا جولڑائی سے بھاگ جائے بلکہ بہادر وہ ہے جو میدان جنگ میں ثابت قدم رہے۔چھٹی بات یہ نکلتی ہے کہ نیکی اس کا نام نہیں کہ ہم نیک اعمال کریں اور نہ بدی اس کا نام ہے کہ ہم بد اعمال کریں بلکہ نیکی اور بدی دل کی نیک اور بد حالت کا نام ہے اور نیک اعمال اور بد اعمال در حقیقت نیکی اور بدی کے اثمار ہیں۔ہمارا یہ کام نہیں ہونا چاہیے کہ ہم صرف علامات اور آثار کو مٹائیں بلکہ ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم بدی کے میلان کو مٹائیں اور نیکی کا میلان پیدا کریں کیونکہ