سفر یورپ 1924ء — Page 12
۱۲ وقت ہو گیا تھا۔قلی لوگ جہاز کی سیڑھی اُٹھانا چاہتے تھے۔مگر جہاز کے کپتان نے مومنٹ مومنٹ کر کے ان قلیوں کو روکے رکھا حتی کہ دعا ختم ہو گئی۔چوہدری صاحب اور میاں رحمد بن بھی آگئے اور جہاز کی سیڑھی اُٹھا دی گئی۔ابتدأ جہاز کا انجن خود کام نہ کرتا تھا بلکہ ایک چھوٹا سٹیمر جہاز کو کھینچتا تھا۔چھوٹے سٹیمر نے جہاز کو چکر دیا اور اس کا پچھلا سرا آگے اور اگلا سرا پیچھے کر کے اس کو سیدھا کر دیا۔اس لوٹا پھیری میں جہاز ایک دوسرے ڈیک کے پاس سے گزرا۔ہمارے دوستوں نے جو اب تک کھڑے حضور کو دیکھتے اور دعائیں کرتے تھے اس موقع کو غنیمت جانا اور بھاگا بھاگ اس جگہ پر پہنچے جہاں سے جہاز نے گزرنا تھا اور ایک مرتبہ پھر رو بر و حضور کو السلام علیکم عرض کرتے ہوئے حاضر ہوئے۔حضور نے بھی بہت محبت سے جواب دیا۔دونوں طرف سے اللہ اکبر کے نعرے بلند ہوئے۔اب چونکہ جہاز خود چلنے لگا تھا اور چھوٹے سٹیمر کی مدد کی ضرورت نہ رہی تھی جہاز تیزی سے روانہ ہونے لگا اور جلدی جلدی دوستوں کو نظروں سے اوجھل کرنے لگا۔حضرت نے پھر ایک مرتبہ دعا کے لئے ہاتھ اُٹھائے اور فرمایا کہ دوستوں کے واسطے ایک بار پھر دعا کریں۔دعا دیر تک جاری رہی حتی کہ دوست نظروں سے اوجھل ہو گئے۔امام کا نمونہ : حضور نے دوستوں سے علیحدگی کے وقت جہاز کی لوٹا پھیری کی حرکات سے فائدہ اُٹھا کر عجیب محبت اور تلطف کا نمونہ دکھایا۔جہاز کا جو حصہ دوستوں کے قریب ہوتا دوڑ کر و میں تشریف لے جاتے کبھی اس سرے کبھی دوسرے سرے۔کبھی وسط میں اور کبھی دوسری طرف۔غرض جہاز کے چاروں طرف حضور ایک بچھڑتے ہوئے بچے کی ماں کی طرح گھومتے پھرتے تھے۔مجھے تو اس وقت سیدہ ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا صفا و مروہ میں اپنے پیاسے بچے کے واسطے پانی کی تلاش میں دوڑنا یا د آ گیا۔میرے خیال میں بمبئی کے ساحل سمندر پر یہ نظارہ بھی اپنی نظیر آپ ہی تھا جو حضور کی اپنے خدام سے دلی محبت قلبی لگاؤ اور ماں سے بھی زیادہ محبت کا ثبوت اور دلیل ہے۔بارش بھی آگئی۔پانی بھی برسا۔حضور کے کپڑے بھی گیلے ہوئے مگر جب تک دوست بالکل اوجھل نہ ہو گئے حضورا نہی کی طرف متوجہ رہے۔