سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 178 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 178

IZA ہیں۔بیسیوں اسٹیشن اور بیسیوں ہی جنکشن سٹیشن ہیں۔ہزاروں بس با قاعدہ شہر کے اندر گھومتی ہیں۔لاکھوں کا ر اور ٹیکسیاں ہیں جن کی کوئی حد و حساب ہی نہیں۔تجار- ٹھیکہ دار۔روٹی والا۔دودھ والا - گوشت والا۔جنرل مرچنٹ - کوئلہ والا۔سبزی فروش - فروٹ مرچنٹ غرض ہر پیشہ و کام والا اپنی موٹریں رکھتا ہے۔دھوبی کی بھی موٹریں ہیں۔چمار بوٹ ساز کی بھی موٹریں ہیں۔لوہار اور ترکھان اور معمار بھی موٹریں رکھتے ہیں۔ادھر آپ نے مکان سے فون کیا اُدھر اس نے موٹر میں سامان رکھا اور آپ کے دروازہ پر حاضر ہو گیا۔ہزاروں گھوڑا گاڑیاں ہیں۔لاکھوں چھکڑے ہیں جو دن رات کام کرتے ہیں۔شہر کی وسعت کا اندازہ لگانے کے لئے ایک بات ہی کافی ہوگی اور وہ یہ کہ ایک ستر سالہ بڈھا آدمی انگریز پاگل نہیں ہوشیار سمجھدار اور کاروباری آدمی جولنڈن میں پیدا ہوا اور لنڈن ہی میں دن رات کا روبار کرتا ہے اس کو بھی اگر اپنے محلہ یا خاص خاص مشہور مقامات کے علاوہ کسی دوسری جگہ جانا پڑے تو پولیس مین یا کسی محلہ دار سے پوچھتا پھرے گا یا اگر اس کونقشہ کی واقفیت ہے تو نقشہ کی مدد سے وہاں پہنچ سکے گا۔ایسا شخص بھی اگر ان چیزوں کی امداد کے بغیر کسی جگہ جانے کی کوشش کرے تو ناممکن ہے یقینا بھولتا اور ٹھوکریں کھاتا پھرے گا۔ہمارے مبلغین جن میں سے بعض کو پانچ پانچ سال یہاں رہتے ہو گئے ہیں ان سے جب کبھی کسی مقام کا راستہ معلوم کیا گیا انہوں نے عذر ہی کیا اور کہہ دیا کہ پوچھتے چلے جانا۔پولیس مین سے دریافت کر لینا ہمیں واقفیت نہیں ہے۔کبھی کہتے ہیں کہ ہم لوگ اگر ایک مکان پر بیس مرتبہ بھی جاچکے ہوں تو بھی وہ ہمارے واسطے نیا ہے جب جاتے ہیں اس مکان کا رخ بدلا ہوا ہی نظر آتا ہے۔الغرض لنڈن کا شہر ، شہر نہیں بلکہ ایک ملک ہے جس میں مسلسل آبادی چلی گئی ہے اور مکانات کی کثرت اور یک رنگی اور بازاروں سڑکوں اور چوکوں کی مشابہت ایسی واقع ہوئی ہے کہ انسان بے پوچھے کسی جگہ پہنچ ہی نہیں سکتا مگر اس کے ساتھ ہی صفائی اور انتظام کا بھی کمال ہے۔سڑکوں پر پتہ تک گرا ہوا نظر نہیں آتا۔بعض جگہ بس کے ٹکٹوں کے سوا ( ان کو بھی ممکن سے ممکن جلدی اُٹھا لیا جاتا ہے۔) جو لوگ بسوں سے اُترتے ہوئے سڑک پر ڈال دیتے ہیں کچھ کہیں پڑا نظر نہیں آتا۔شہر با وجود ایسا آباد ہونے کے بالکل خاموش معلوم ہوتا ہے۔ہمارے محلہ میں ہزاروں مکان