سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 161 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 161

۱۶۱ نے حکم دیا ( بعد میں معلوم ہوا کہ ان کا اپنا حکم تھا نہ کہ حضرت اقدس کا ) کہ تم ٹھہر جاؤ۔میں نے کہا کہ ٹھہرا ہوا تو ہوں مگر اگر کوئی کام کہیں تو اس وقت میں نہ کر سکوں گا۔میری حالت میرے بس کی نہیں ہے اور میرے خیالات بالکل پراگندہ ہیں۔اس پر کہہ دیا کہ اچھا پھر ساتھ چلو۔میں نے کہا کہ میں ساتھ بھی نہیں جا سکتا میری حالت ٹھیک نہیں۔میرے قلب پر سخت صدمہ ہے۔بصد مشکل موٹروں کی تقسیم پوری ہوئی۔شیخ صاحب مکرم نے پھر مجھے گھسیٹا۔آخر میں موٹر کے پاس گیا تو حضرت خان صاحب نے پھر مولوی عبد الرحیم صاحب درد کو مخاطب کر کے فرمایا کہ کیا یہ رحمدین کے ساتھ نہ ٹھہریں گے؟ میں نے ان الفاظ کو سنا اور مطلب سمجھ لیا۔میں سوار نہ ہوا اور دوسرے ہوٹل میں آن کر لباس بدل لیا۔قریب دس منٹ بعد چوہدری محمد شریف صاحب آئے اور کہا کہ حضرت اقدس نے فرمایا ہے کہ میں نے کوئی ایسا حکم نہیں دیا کہ عبد الرحمن یہاں ٹھہرے ساتھ نہ جائے لہذا چلو۔جلدی کرو۔مگر میں چونکہ یونیفارم اُتار چکا تھا سادہ لباس میں ہی چلا گیا۔تینوں موٹر میں کھڑی تھیں۔ایک میں میں بھی ایک مٹی کے ڈھیر پر پتھر کے باٹ کی طرح بیٹھ گیا اور موٹریں کٹا کومبز (Cata Combs) اصحاب الکہف کے مقامات کو چلیں۔وہاں جو کچھ دیکھا میں نہ لکھ سکا نہ لکھنے کی تاب تھی۔ایک بت کی طرح پیچھے پیچھے پھرتا رہا اور پھر ساتھ واپس آ گیا ہوں۔حالات ایسے ہیں کہ آہ بھی بعض اوقات کھینچ کر نہیں لی جا سکتی۔بعض پولیٹیکل انسان بعض خاص اغراض کے ماتحت کام کرتے ہیں۔میں ایسی چالوں کا واقف نہیں ہوں۔میں الزام اپنے ذمے لے لیتا ہوں مگر زبان درازی مجھے نہیں آتی کیونکہ میں جانتا ہوں انسان آخر انسان ہی ہے خواہ کتنا بھی بڑا کیوں نہ ہو۔جب تک اللہ تعالیٰ اسے کوئی معاملہ نہ بتائے تب تک اس کو کسی بات کی حقیقت کیوں کر معلوم ہوسکتی ہے۔میں ہمیشہ صبر کا عادی رہا ہوں اور میں نے ہمیشہ صبر کا پھل میٹھا ہی دیکھا ہے گو کہ صبر خود بہت ہی تلخ ہوتا ہے۔یہ بھی مجھے یقین ہے کہ جو انسان کسی کی ذلت کے لئے کوشش کرتا ہے اور چالا کی ہوشیاری اور عیاری سے ایسی راہیں پیدا کرتا ہے کہ اس میں اس کی برتری اور کارگزاری ثابت ہو وہ یقیناً یقیناً ایک دن خود ذلیل و خوار ہوتا ہے اور نہیں مرتا جب تک کہ اس کئے کی سز انہیں بھگت لیتا۔پس میں پھر