سفر یورپ 1924ء — Page 5
لدھیانہ سات بجے کے بعد گاڑی لدھیا نہ پہنچی جہاں علاوہ شہر کی جماعت کے دیہات اور گردو پیش کے مخلصین بھی جمع تھے۔جماعت لدھیانہ نے اس خوشی میں تمام ٹرین پر برف اور دودھ کا شربت تقسیم کیا۔پھولوں کے ہار تو ہر جگہ سے ملتے ہی چلے آئے تھے۔جالندھر کے سٹیشن پر جماعتوں نے سوڈا برف اور خاص ہوشیار پور کے آموں سے دوستوں کی خدمت کی۔کھتہ : کھنہ کے اسٹیشن پر مکرمی حضرت منشی عبداللہ صاحب سنوری کی تیار کردہ جماعت غوث گڑھ ۱۸ میل کا سفر پیدل طے کر کے حاضر تھی۔ایک چھوٹے سے سٹیشن پر صرف دو عورتیں اور دو تین بچے پروانہ وار قربان ہونے کو آئے ہوئے تھے۔گاڑی ہماری چونکہ سب سے پیچھے تھی اس وجہ سے اکثر پلیٹ فارم سے باہر ہی کھڑی ہوا کرتی تھی۔دوستوں کو ملاقات میں گونہ دقت بھی ہوتی تھی مگر یہاں تو ایک عورت نے بڑی بہادری دکھائی۔گاڑی کی روانگی کا وسل ہو گیا تھا دوستوں نے روکا کہ گاڑی چلنے والی ہے نیچے ہی سے سلام کر لو مگر اس نے ایک نہ سنی اور برقعہ اوڑھے گاڑی پر چڑھ کر حضور کی خدمت میں پہنچی اور گاڑی روانہ ہوگئی۔عورت نے اُترنے کی کوشش کی اور چلتی گاڑی سے کود پڑی۔قریب تھا کہ سر پھٹ جاتا اور تمام بدن لہولہان ہو جاتا مگر ایک احمدی دوست نے لپک کر ایسا ہاتھوں پر لے لیا جس طرح ماں بچے کو گود میں اٹھا لیتی ہے اور اس طرح سے وہ بیچاری منزل مقصود پر پہنچ کر سلامت واپس بھی چلی گئی۔را جپوره شیشن : راجپورہ کے سٹیشن پر جماعت پٹیالہ نے کھانے کا انتظام کر رکھا تھا اور با قاعدہ انتظام تھا۔کھانا تمام دوستوں میں اچھی طرح سے تقسیم کیا گیا اور انبالہ چھاؤنی تک ساتھ کھلاتے پلاتے دوست چلے گئے اور چھاؤنی سے واپس آگئے۔چھاؤنی انبالہ سے بارش کا سلسلہ جاری ہو گیا اور دوست سردی اور بارش کی تکلیف اُٹھا کر خدمت اور ملاقات کے دوہرے اجروں کے وارث ہوئے۔فجزا هـم الله تعالى احسن الجزا في الدنيا والآخرة اصلی گاڑی مس (MISS) ہو گئی : ہماری گاڑی راستہ میں لیٹ ہوتی گئی۔پھگواڑ ہسٹیشن پر