سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 78 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 78

ZA میں بھی یہ لوگ حضور کو استاد یا استاد، استاد الاکبر کے نام سے پکارتے ہیں۔حافظ صاحب ابھی حلب کے ایڈیٹر صاحب سے فارغ بھی نہ ہوئے تھے کہ شیعہ فرقہ کا بڑا مفتی اور کئی بڑے بڑے علماء آگئے اور ہر ایک مولوی محض یہ نیت لے کر آتا تھا کہ کسی رنگ میں حضرت اقدس کو یا حضور کے غلاموں کو بحث میں شکست دیں۔کوئی لغت کا زور لے کر آتا۔کوئی حدیث دانی کے گھمنڈ پر آتا۔کوئی فلاسفی کوئی منطق کوئی صرف ونحو کے زعم پر آتا تھا مگر ان کو معلوم نہ تھا کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے علوم کو ایسا غلام کر رکھا ہے کہ کسی کو حضرت اقدس تو کیا حضرت کے غلاموں سے بھی بازی لے جا سکنے کی توفیق نہ ملتی۔جو آتا پہاڑ سے ٹکر کھا کر واپس لوٹ جا تا۔پھوڑتا تو اپنا ہی سر پھوڑتا۔علماء کی اس بے بسی اور بدتہذیبی کی وجہ سے ہی ۸/ اگست ۱۹۲۴ء کے اخبار الف بانے نوٹ لکھتے ہوئے لکھا کہ میدان میں ایک کامیاب جرنیل یا شیر بہادر کی طرح سے چاروں طرف کے حملوں کا جواب دیتا تھا ہمارا امام )۔اگر چہ اس اخبار کو ایک غلطی لگ گئی ہے کہ اس نے تمام مسم کے ( دعاوی سید نا حضرت خلیفہ اسیح کی طرف منسوب کر دیئے ہیں۔یہ اخبارات قادیان روانہ کئے جا رہے ہیں اور کئی اور اخبار جاری کئے جائیں گے۔کل ہوٹل میں ایک کمرہ ایک پونڈ روزانہ پر لے لیا گیا تھا مگر اس میں گنجائش نہ رہی تو خود لوگوں نے مینجر ہوٹل سے جا کر کہا کہ ہمیں اجازت دو کہ ڈرائینگ روم میں بیٹھ کر کچھ باتیں کریں۔مینجر نے مجبور ہوکر اجازت دی اور پھر وہ بڑا کمرہ لوگوں سے بھر گیا۔ایک حلقہ بنایا گیا۔کرسیوں پر جگہ نہ رہی تو لوگ کھڑے کھڑے سنتے رہے۔حافظ صاحب کو کل ساڑھے چار بجے کھانا نصیب ہوا۔حافظ صاحب کھانے کو گئے اور حضرت صاحب باہر تشریف لے آئے اور مجلس ایک بار اور پوری بھر گئی اور لوگ ہمہ تن گوش ہو کر سننے لگے۔حضرت اقدس نے عربی میں سلسلہ کلام بڑی فصاحت سے جاری رکھا چنانچہ ۸/ اگست ۱۹۲۴ء کے اخبار الف با نے اس بات کا بھی اقرار کیا کہ حضور بڑی فصیح زبان عربی میں کلام فرماتے تھے۔ہر قسم کے مولویانہ اعتراضات کئے گئے۔وفات مسیح سے لے کر ختم نبوت اور نبوت حضرت مسیح موعود اور صداقت مسیح موعود اور وحی الہی کے نزول تک تمام مسائل پر ہر رنگ میں گفتگو ہوتی