سفر یورپ 1924ء — Page 58
۵۸ دراصل اس شخص نے مبالغہ کیا تھا اور محاصل سرکاری کے روپیہ کو بڑھا کر بیان کیا تھا۔زکوۃ سے مرا دصرف محاصل اور ٹیکس سرکاری تھے۔اس بات کو سمجھ کر حضور نے جواب دیا تھا کہ هـــو يُسلب منكم مگر دوسرے ساتھیوں نے اور ان سید صاحب نے اس کو سمجھایا اور کہا کہ بات جوحضور فرماتے ہیں بالکل درست ہے اور ان میں سے افسر خزانہ نے جس کا عہدہ غالبا کلکٹر کے برابر کا تھا کہا جب یہ لوگ اپنا مال اور جان اسلام کی خدمت کے لئے قربان کرتے ہیں۔وطنوں سے بے وطن ہوتے ہیں۔مصائب اور مشکلات جھیلتے ہیں تو ہمیں بہر حال ان کا ساتھ دینا چاہئیے اور ان سے مل کر کام کرنا چاہیئے۔حالات خواہ کچھ بھی کیوں نہ ہوں ہمیں اس جماعت کے ساتھ مل جانا چاہئے۔ان باتوں پر آخر وہ شخص بھی نرم ہو گیا اور ادب سے بات کرنے لگا اور پانچوں نے اس پر اتفاق کیا۔- سلسلہ گفتگو میں انہوں نے پھر پوچھا اور عرض کیا کہ کہ آپ نے ہمارے ممالک عربیہ میں کیوں مبشر نہیں بھیجے اور کیوں جرائد اور مجلد جاری نہیں کئے۔حضور نے فرمایا کہ میرا ارادہ ہے کہ جلدی ہی یہاں مبشر بھیج دوں اور مبشرین کے آنے پر انشاء اللہ جرائد اور مجلد بھی (اخبار اور ماہوار رسالے) جاری کر دیئے جائیں گے اور ہمیں اللہ کے فضل سے یقین اور امید قوی ہے کہ جلد تر ان علاقہ جات میں جماعتیں ہمارے ساتھ مل جائیں گی کیونکہ حق ہمارے ساتھ ہے اور ہم حق کو لے کر دنیا میں نکلے ہیں وغیرہ۔اس پر ان لوگوں نے عرض کیا کہ آپ جلدی یہاں مبشر بھیجیں۔ہم لوگوں میں ایک بڑی جماعت ہے جو آپ کی جماعت میں شامل ہونے کے لئے تیار و آمادہ ہے جو حق کی پیاسی اور صداقت کی بھوکی ہے۔یہ بات ایسی سنجیدگی اور متانت سے ان لوگوں نے کہی کہ اس میں شبہ کی گنجائش ہی نہیں کہ انہوں نے مذاق کیا ہو یا مبالغہ آمیز بات کی ہو۔دراصل وہ لوگ حکومت کی پارٹی کے تھے اور ان کو چونکہ حکومت کی طرف سے کوئی خطرہ نہ تھا انہوں نے اپنے خیالات کا آزادی سے اظہار کیا اور واقع میں وہ لوگ بات کو سمجھ گئے اور قبول حق کے لئے آمادہ ہیں۔سلسلہ کلام اسی جگہ تک پہنچا تھا کہ مولوی عبد القادر صاحب آگئے جو نہایت ہی جو شیلے اور