سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 506 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 506

Λ پردہ کا رواج اندرون مصر پردہ کا عام رواج نظر آتا ہے۔عورتیں سیاہ اوڑھنی کو پیشانی اور رخساروں پر اس طرح پہنتی ہیں کہ آنکھیں اور صرف ناک نگارہ جاتا ہے پھر ناک پر ایک کلپ زیور کی شکل کا خوبصورت سا لگا لیتی ہیں جو اوپر اور نیچے کے کپڑے کو پکڑے رہتا ہے جس سے رخساروں کے ننگے ہونے کا خطرہ نہیں رہتا۔چلنے پھرنے میں آزادی بہت نظر آتی ہے مگر پردہ کا لحاظ عورتوں میں خاص طور پر ہے بعض عورتوں کو کھیتوں میں اپنے مردوں کی امداد کرتے دیکھا۔اس حالت میں بھی انہوں نے پردہ کا لحاظ رکھا ہوا تھا۔عورتوں کا لباس پر دہ اور وضعداری دونوں کے لئے ہوتے ہے۔عام سواری: اس علاقہ میں عموماً گدھے کی سواری مروج ہے۔عورتیں، بچے ، مرد اور بوڑھے ہر قسم کے لوگ گدھوں پر بلا تکلف سوار ہو کر ادھر ادھر نقل و حرکت کرتے ہیں۔گدھے سبک رفتار ہیں۔کپاس کی کاشت ان دنوں کثرت سے نظر آتی ہے۔تل بھی قریب پختگی کے ہیں۔مکی اور جوار بھی نظر آتی ہے۔انگور کثرت سے ملتے ہیں اور ارزاں تر بھی۔آبادیاں زیادہ با قاعدگی اور اچھی خوبصورتی کو لئے ہوئے نظر آتی ہیں۔لوگوں میں متمول اور آسودگی نظر آتی ہے۔تجارت، زراعت اور پیشہ وری کا عام چرچا ہے۔جس علاقہ میں سے یہ لائن گزرتی ہے دریائے نیل کی نہروں کی وجہ سے خوب ہی سرسبز ہے۔تربوز بہت بڑے بڑے اور کثرت سے پائے جاتے ہیں۔نہروں میں بادبانی کشتیاں چلتی ہیں۔مصری ریل گاڑی: گاڑی میں عورت مرد مل کر بیٹھتے ہیں۔مرد عورتوں کا احترام کرتے ہیں۔سہولت کی جگہ ان کو دے دیتے ہیں۔گاڑیوں کا انتظام اچھا ہے۔اول تا آخر رستہ نکلتا ہے۔کھانے پینے کی اشیاء عموماً ہر قسم کی گاڑی کے اندر ہی مل جاتی ہیں۔گاڑی میں لوگ بظاہر تمام ہی مسلمان نظر آتے ہیں۔قاہرہ کا سٹیشن : سامان گاڑی سے اُتار کر ہم نے قلیوں کے حوالہ کیا۔حضرت صاحب پلیٹ فارم پر خدام کے منتظر رہے۔جب تمام خدام فارغ ہو کر حضور کے پاس پہنچ گئے تو حضور نے پوچھا کہ داخلہ شہر کی دعا سب نے کر لی ؟ عرض کیا گیا فردا فردا تو کر لی ہے۔حضور نے پھر مجموعی طور پر دعا کے