سفر یورپ 1924ء — Page 38
۳۸ ، یعقوب علی عرفانی صاحب حافظ روشن علی صاحب چوہدری محمد شریف صاحب، شیخ عبدالرحمن صاحب مصری ، ذوالفقار علی خان صاحب، چوہدری علی محمد صاحب اور کا تب الحروف عبدالرحمن قادیانی صرف ایک میاں رحمد بن صاحب غیر حاضر تھے۔ظہر و عصر کی دونوں نمازیں حضور نے باجماعت پڑھائیں اور فرمایا کہ آج کا دن تو سارے کا سارا خطوط نویسی میں گزر گیا ہے اور ابھی بہت سے لمبے لمبے خطوط لکھنے باقی ہیں۔اب نماز کے بعد بھی حضور نے باہر تشریف رکھتے ہوئے خطوط لکھنے شروع کر رکھے ہیں۔سورج غروب ہو چکا ہے اور شام ہوگئی ہے مگر حضرت صاحب ابھی خطوط تحریر فرماتے جار ہے ہیں۔آج رات بھر چلنے کے بعد انشاء اللہ صبح کو عدن پہنچیں گے۔میں اپنا عریضہ دعاؤں کی درخواست کے ساتھ بند کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ جس طرح میں نے آپ لوگوں کے محبوب آقا وامام کے حالات سفر عرض کرنے میں اپنے آرام اور آسائش کی پرواہ نہیں کی اور اسی کوشش میں رہا ہوں کہ جس طرح سے ہو سکے حضور کے حالات سفر آپ بزرگوں تک مفصل پہنچیں آپ بھی مجھے اپنی سحر گاہانہ دعاؤں میں ضرور یاد فرماتے رہیں گے۔ایک لمبا تار حضور نے عدن سے قادیان دلانے کی غرض سے لکھوایا ہے جو عدن پہنچ کر دیا جائے گا۔4 بج چکے ہیں اور ابھی ہمارا جہاز چل رہا ہے۔عدن ابھی تک نظر بھی نہیں آتا۔ایک خط حضور نے مکر می حضرت مولوی شیر علی صاحب کے نام لکھا ہے جو بہت ہی پُر درد ہے اور جماعت کی محبت اور اخلاص کے اظہار پر مشتمل ہے۔نصائح ہیں۔حضور نے خود پڑھ کر سنایا اور ایک بڑے لفافہ میں بند کر کے روانہ کر دیا۔رات حضور ۲ بجے تک خطوط لکھتے رہے۔صبح کی نماز کے بعد حضور باہر خدام میں تشریف لائے ہوئے ہیں۔جہاز انشاء اللہ تعالیٰ عدن ۹ بجے کے قریب پہنچے گا۔عدن کے پہاڑ نظر آنے شروع ہو گئے ہیں اور عدن اب بالکل قریب معلوم ہوتا ہے۔فقط شیر سفر انگلستان عبد الرحمن قادیانی از قرب عدن ۲۳ جولائی ۱۹۲۴ء