سفر یورپ 1924ء — Page 473
۴۷۳ ہو جائے اور اسی حالت میں ہمارے انجام بخیر ہوں آمین۔سمندر میں کل سے کچھ شندی ہے جس سے اکثر لوگ اُفتاں و خیزاں اوقات بسری کرتے ہیں۔بعض گر بھی گئے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کا احسان اور اسی کا فضل ہے کہ بہت امن اور آرام سے یہ ایام سفر گزرے ہیں۔خدا تعالیٰ اپنے فضل سے بخیریت کشتی کو ہماری کنارے لگائے۔دوست منتظر ہوں گے۔اُدھر وہ ادھر ہم۔کل صبح کی خوشی میں شاید پوری نیند بھی نہ لے سکیں گے۔حضور ساڑھے نو بجے کے بعد تشریف لائے مگر چونکہ سب دوست جمع نہ تھے انتظار میں بیٹھ گئے۔فرمایا کل سے طبیعت بہت اداس ہو گئی ہے۔سارے سفر میں ایسی اداس نہ ہوئی تھی جیسی کہ اب قریب آ کر ہوئی ہے۔فرمایا میں نے کہانیوں کی کتابیں پڑھ کر وقت گزارا ہے یا لوگوں سے باتیں کر کے۔باتیں کرنے سے یہ فائدہ ہوا کہ لوگوں سے تعارف بڑھ گیا اور کام بھی خوب ہوتا رہا۔بہت لوگ اس طرح سلسلہ سے واقف ہو گئے۔اب سوچنا ،فکر کرنا اور غور کر کے فائدہ اُٹھانا ان کا کام ہے۔ملک نواب دین صاحب نے اپنی تبلیغی رپورٹ سنائی۔وہ ایک پروفیسر صاحب کو جو کہ سیلون میں کنیڈی مقام کے کسی کالج کے پروفیسر ہیں اُن کو کرتے ہیں جو حضور نے توجہ سے سنی اور خوشی کا اظہار فرمایا۔یہ پروفیسر صاحب احمدیوں سے پہلے بھی واقف ہیں کیونکہ ان کے کالج کی کلاس میں ان کے شاگردوں میں چار پانچ احمدی لڑکے ہیں مگر پروفیسر صاحب کہتے ہیں کہ وہ خوف کے مارے احمدیت کا اظہار نہیں کرتے۔پروفیسر صاحب سے ملک صاحب نے زبانی گفتگوئیں بھی کیں اور لٹریچر بھی دیا جو کہ انہوں نے پڑھا اور بہت متاثر ہوئے ہیں۔دلائل کو لا جواب مانتے ہوئے بھی پرانے آبائی خیالات کو چھوڑنے کی جرات نہیں کر سکتے مگر خیر یہ ایک بیج ہے جو ملک صاحب نے ان کے دل میں بود یا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ ملک صاحب گواکثر دائم المریض ہیں مگر سلسلہ کی تبلیغ کا ان کو خاص شوق اور جوش ہے اور بات کو ایسے رنگ میں پیش کرتے ہیں کہ خواہ مخواہ دوسرا سننے کے لئے مجبور ہو جاتا ہے۔شناسائی بھی پیدا کر لیتے ہیں اور مردم رس بھی ہیں۔سلسلہ کے دلائل اور خصوصیات سے بھی واقف بلکہ اچھے واقف ہیں۔بہتوں کو انہوں نے اسی جہاز میں پیغام حق پہنچایا ہے۔