سفر یورپ 1924ء — Page 401
۴۰۱ خود مسلمان ہوں تو حرج نہیں مگر بادشاہ کے متعلق ایسا خیال پسند نہیں کرتے۔حضور نے (البيت) کے سنگ بنیاد کے لئے جو کلمات لکھے ہیں ان کے متعلق تجویز ہے کہ حضرت اقدس کی اصل تحریر کا فوٹو لے کر شائع کر دیا جاوے۔یہ ایک ایسی چیز ہے جس کو ہمیشہ رکھنا ضروری ہے۔کیبنٹ سائز پر حضور لکھیں گے دوبارہ۔حضور کے ہاتھ کا لکھا ہوا اینلا رج کر دیا جائے گا۔یہاں بھی اردو اور انگریزی دونوں چھپوا کر لوگوں میں تقسیم کر دیا جاوے گا۔بلاک بنوا لیا جاوے گا۔حضور نے فرمایا کہ قاضی صاحب کے خط آ رہے ہیں کہ الفضل کے بند ہو جانے کا اندیشہ ہے کوئی مشین الفضل کے لئے ضرور خرید لائیں۔آج مشین دیکھنے گئے تھے مگر ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔نیر صاحب کا ایک لیکچر آج بھی تھا۔۴۰ کے قریب آدمی تھے۔مضمون تھا ”نبی کریم کے سوانح اور تعلیم، تھیوسافیکل لاج میں مضمون خدا کے فضل سے کامیاب ہوا۔بعد میں لوگوں نے سوالات کئے مگر دوسوال عجیب تھے۔ایک یہ کہ اسلام کے عقائد کے مطابق عورت میں روح نہیں۔دوسرا آرمینیا میں ترکوں کے عیسائیوں کو قتل کے متعلق تھا۔ان دونوں سوالات کے ایسے دندان شکن جواب دیئے گئے کہ لوگ ٹھنڈے ہو گئے۔مگر جب اسلام کی رُو سے عورت کی عزت اور درجہ کا ذکر سنایا گیا تو عورتیں خصوصیت سے خوش ہوئیں اور بہت اچھا اثر لے کر گئیں۔گیارہ بج چکے ہیں اور حضور اب نمازوں کے لئے اُٹھ کر تشریف لے جا رہے ہیں۔میں بھی جاتا ہوں۔حضرت نے آج یہ بھی فرمایا کہ اب کے تو بمبئی میں سے جانے کا ارادہ ہے۔بمبئی میں بھی ایک دن تو ٹھہرنا ہی پڑے گا کیونکہ سامان زیادہ ہے۔کسٹم والوں سے بھی نپٹنا ہو گا اور بڑے بکس ریل والے لیتے نہیں ان کو پھر وہاں جا کر چھوٹے بکسوں میں بند کرنا پڑے گا۔یہ بھی فرمایا کہ جماعتوں کی اطلاع کے لئے چند مرکزوں میں تاریں دے دیں گے کہ وہ آگے اطلاع کر دیں یا یہ صورت کر لی جاوے کہ قادیان لکھ دیا جاوے وہ ہمارے بعض شرائط کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک پروگرام تجویز کر کے جماعتوں کو اطلاع دے دیں اور بمبئی بھی اطلاع دے دیں۔اس کے مطابق سفر کیا جاوے مگر ابھی آخری فیصلہ نہیں فرمایا کہ کیا کیا جاوے گا۔جہاز کی رسیدگی بمبئی غالبا ۷ ار یا ۱۸ کو ہوگی۔۱۹ رکو سوار ہو کر ۲۱ کو یا زیادہ سے زیادہ ۲۲ نومبر تک انشاء اللہ قادیان