سفر یورپ 1924ء — Page 28
۲۸ رہا گیا تو دریافت ہی کر لیا کہ اس میں کیا ہے؟ بتایا گیا کہ خالی رومال ہے تو ان کو یقین نہ آیا اور جانا کہ ضرور اس میں کچھ ہے اور وہ عجیب چیز ہے مگر جب کھول کر ان کی تسلی کر دی گئی تو خاموش ہوئے۔ساتواں دن: ۲۱ / جولائی ۱۹۲۴ء یعنی سمندری سفر کا ساتواں دن خدا کے فضل سے رات ہر طرح سے امن و آرام سے کئی۔سمندر ٹھنڈا ہے اور اب سمندر میں کوئی شہر، کوئی پہاڑ ، کوئی گاؤں، کوئی مکان ، کوئی پڑا وہ حتی کہ کوئی جھونپڑی بھی بنتی نظر نہیں آتی۔( جو کہ طوفان کی حالت میں لہریں بنا دیا کرتی تھیں ) سمندر بالکل پر سکون وکام (Calm) ہے،صرف جہاز کے پاس پاس جہاز ہی کی حرکت کی وجہ سے پانی میں حرکت اور سفیدی، سبزی اور سیاہی کے رنگ نمودار ہوتے ہیں۔باقی میلوں میل تک سمندر بالکل صاف لہرئیے دار کالا پانی ہی پانی نظر آتا ہے۔دوست خوش ہیں۔سامان خشک کیا جا رہا ہے مگر اگر دو حصہ خشک ہوتا ہے تو ایک حصہ نمکین پانی کی وجہ سے تر بھی ہو جاتا ہے۔سوائے میاں رحمد بن صاحب کے کوئی اب بیمار نہیں۔سوائے مولوی عبدالرحیم صاحب درد اور چوہدری محمد شریف صاحب کے سب دوست چلتے پھرتے اور کھاتے پیتے ہیں۔چوہدری علی محمد صاحب میں آج خاص طور پر درد، رقت اور سوز و گداز پیدا ہو رہا ہے۔رو رو کر دعائیں کرتے ہیں۔دل نرم ہے آواز ہلکی ہے اور جسم ڈھیلا ہے۔نہ معلوم کیا یاد آیا کس بات نے ان کے دل پر اثر کیا۔بہر حال اچھی حالت ہے۔دعاؤں کا موقع ہے دوستوں کے لئے دعائیں کر رہے ہیں۔کل رات انہوں نے ایک دور ڈ یا بظاہر منذر دیکھی تھیں اپنی اہلیہ اور بچے کے متعلق شاید اس کا بھی کچھ اثر ہو۔اللہ تعالیٰ ان پر فضل وکرم کرے۔قادیان میں کیا ہو رہا ہے اللہ ہی کو علم ہے۔وہاں کی خبروں کا سخت بے تابی سے انتظار ہے۔بعض اوقات خیال آجاتا ہے کہ کیوں نہ دوستوں نے بے تار کا پیغام دے کر قادیان کے حالات سے مطلع کر دیا۔اچھا سمندر میں نہیں تو خدا کرے کہ عدن میں ہی کوئی خبر مل جاوے۔ہمیں اخبار الفضل عدن میں مل سکتا تھا اگر عملہ الفضل مہربانی کرتا۔دیکھیں شاید کسی دوست کے نام عدن میں آیا ہو تو دیدار نصیب ہو جائے گا۔خطوط بھی عدن کے پتہ پر پہنچ سکتے تھے کیونکہ وہ ڈاک جواب کے ۱۷ رکو پنجاب سے روانہ ہوئی عدن میں ہماری رسیدگی سے پہلے پہنچے گی۔اسی طرح سے پورٹ سعید پر بھی ہماری آنکھیں ڈاک قادیان کا انتظار کریں گی۔خدا کرے کہ ہمارے دوستوں کو تو فیق