سفر یورپ 1924ء — Page 344
۳۴۴ لوگ بہت خوش ہوئے اور محبت سے رخصت کیا۔نو عمر لڑکے لڑکیاں تھیں۔ان کی عقل اور سمجھ کے مطابق ان سے کلام کیا گیا اور رسول اکرم کے مفصل سوانح ان کو ایسے دلچسپ پیرا یہ میں سنائے گئے اور تو حید اور رسالت پر ایسے دلائل سنائے گئے جن کو انہوں نے توجہ اور محبت سے سنا۔خدا کرے کہ ان کے دلوں کی کھیتی میں یہ باتیں ایک صالح پیج ثابت ہوں۔وہاں سے فارغ ہو کر مکان پر تشریف لائے۔کھانا کھایا گیا اور نمازیں جمع کر کے ادا کی گئیں اور اس طرح رات کے بارہ بجے بلکہ بعد بمشکل آرام فرما سکے۔مولوی مبارک علی صاحب ایتھی کل چرچ میں گئے۔نام پادری صاحب کا ”ٹی سول ڈیوس‘ تھا۔ہر ہمو خیالات کا آدمی ہے مگر معمولی لیکچر اور سرمن کے بعد اس نے ہمارے سلسلہ کا بھی ذکر کیا اور لوگوں کو سنایا کہ مذہب ہمیشہ ترقی کر رہا ہے اور آج بھی دنیا میں نئے نئے خیالات پیدا ہور ہے ہیں جو کہ انسان کی ترقی کا ذریعہ ہیں اور ہم ایسے لوگ ہیں کہ جن لوگوں کے خیالات کے سبب سے ان کے ایک مشنری کو افغانستان میں سنگسار کیا گیا۔خدا کا شکر ہے کہ ہمیں یہاں پوری آزادی ہے اور خیالات کی تبلیغ میں جو کہ خواہ گورنمنٹ کے بھی خلاف ہو تبلیغ کر سکتے ہیں مگر ابھی دنیا میں ایسی بھی جگہ ہیں جہاں ایسے خیالات کو الحاد سمجھا جاتا ہے اور اس کی قیمت انسانی جان ہوتی ہے اور کہا کہ احمد یہ سلسلہ کے ساتھ ہماری بڑی ہمدردی ہے اور کہ ہم اس سلسلہ کی ترقی کے متمنی ہیں کیونکہ اس سلسلہ کے ذریعہ سے لوگ دنیا میں بڑی ترقی حاصل کر سکتے ہیں۔مکرمی نیر صاحب نے بھی حضرت اقدس کے آنے سے پہلے بہت کچھ کوشش کی۔ان کوششوں میں سے ایک کوشش ٹائمنز آف انڈیا بمبئی کا مورخہ ۶ /ستمبر ۱۹۲۴ء کا پرچہ بھی ہے۔امید کہ آپ کے ہاں پہنچا ہو گا۔اس نے ایک مفصل اور لمبا مضمون لکھا ہے۔۲۹ ستمبر ۱۹۲۴ ء : صبح کی نماز میں حضرت اقدس تشریف نہیں لا سکے آج ڈاک ہند کا دن ہے۔ہندوستان میں بھی اکثر پیر کے دن ڈاک تقسیم ہوتی ہے اور یہاں بھی سوائے بعض خاص حالات کے ڈاک ہند عموماً پیر کے دن ہی تقسیم ہوتی ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ چلتی بھی ایک ہی دن یعنی جمعرات ہی کو لاہور سے چلتی ہے اور جمعرات ہی کو لنڈن سے چلتی ہے۔