سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 307 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 307

۳۰۷ میں حق کو غالب کر کے جائیں گے۔پس ایسے مومن جن کے دل میں ( دینِ حق ) کی صداقت اس طرح سے گڑ جائے اور گھر کر جائے کہ ان کو اس پر یقین ہو اور ساتھ ہی یہ بھی وثوق ہو کہ ہم ( دین حق ) کو دنیا پر غالب کر کے رہیں گے تو وہ گویا انبیاء کے قائمقام اور ظل ہوتے ہیں کیونکہ ان کا کام انبیاء کا کام ہوتا ہے اور انہی کا سا اخلاص ، جوش اور عزم لے کر وہ کھڑے ہوتے ہیں۔دیکھئے ہماری آمد کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے ایسے غیر معمولی سامان پیدا کر دیئے ہیں کہ جماعت جس کو یہاں کوئی جانتا بھی نہ تھا سوائے معدودے چند واقف کاروں کے ، اس کو اب کتنی شہرت اور عظمت حاصل ہوگئی ہے کہ غیر لوگ بھی کہنے لگے ہیں کہ آجکل جہاں جائیں احمدیت ہی احمدیت کا ذکر ہوتا ہے۔جہاں دیکھو اور پڑھو گفتگو کا یہی ٹاپک (Topic) اور مجالس میں اسی کا چرچا ہوتا ہے حتی کہ لوگ اس کا نفرنس کو بھی احمدیہ کا نفرنس کہنے لگے ہیں۔مولوی نعمت اللہ خان کی شہادت کا واقعہ بھی اس شہرت کا بڑا ذریعہ ہوا ہے مگر ہمارا آنا اور مولوی نعمت اللہ خان کا شہید ہونا ان دونوں واقعات کو جمع کس نے کیا ؟ ان باتوں میں غور کرنے والے اور فکر کرنے والے خدائی مشیت اور الہی ارادہ کو سمجھ سکتے ہیں اور عرفان کا مقام ان کے قریب ہو سکتا ہے۔اگر ہم آئے ہوتے اور یہ واقعہ نہ ہوتا اور اگر ہم نہ آئے ہوتے اور یہ واقعہ ہو جاتا ، پس یہ بھی تو خدا ہی کا کام ہے کہ اس نے ایسے سامان جمع کر دئیے ہیں جن سے ہمارے سلسلہ کی شہرت ہو گئی۔یہ تو سونے پر سہاگے والا کام ہو گیا ہے۔آخر اس سے پہلے بھی تو دوشہادتیں ہیں جو بعض حالات میں اس سے بہت زیادہ اہم تھیں مگر ان سے ہماری ترقی یا شہرت پر کیا اثر ہوا تھا ؟ الغرض ہمارے اس سفر کے اغراض میں سے ایک حصہ جو ظاہر کے ساتھ تعلق رکھتا تھا خدا کے فضل سے پورا ہو چکا ہے۔باقی کے پورا ہونے کی بھی ہمیں پوری امید اور پختہ یقین ہے اور کہ خدا کی پوشیدہ تقدیر ضر و ر اب ظاہر ہو کر رہے گی مگر ان خواب اور رویا میں جو ہمارے اس سفر کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں میں نے بعض رنج وہ امور بھی دیکھے تھے جو غم اور ہم پر دلالت کرتے تھے۔چنانچہ میں نے اپنے اشتہار میں صاف طور پر لکھا تھا کہ بعض امور ا یسے بھی ہیں کہ آپ لوگ ان کو نہیں جانتے اور اگر جان لیں تو بہتوں کے دل مجھ پر رحم کھا ئیں اور ہمدردی سے بھر جائیں۔چنانچہ ان میں سے بھی بعض واقعات کئی رنگ میں پورے ہوئے ہیں۔مثلاً ان دوماہ میں