سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 255 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 255

۲۵۵ آیا۔مصر بھی گیا ہوں۔میں نے دیکھا ہے کہ بہت کم اخراجات میں گزارا ہوسکتا ہے مگر اب تو میں خلافت کے عہدہ کی وجہ سے مجبور ہوں کہ بعض اخراجات میں زیادتی کروں۔یہ تو میرا احسان ہے جماعت پر کہ جماعت کے امام کے مرتبہ اور عہدہ کی وجہ سے مجھ پر جو بوجھ زیادہ ہو رہا ہے میں اس کو بھی برداشت کرتا ہوں اور یہ سب اخراجات میں نے اپنی ذات پر ڈالے ہیں نہ کہ جماعت کے روپیہ پر۔فرمایا کہ دیکھیں میں نے جماعت کے روپیہ کو کس احتیاط سے خرچ کیا ہے کہ کیسے بڑے بڑے علماء کو ڈیک پر اور تھرڈ کلاس میں لایا ہوں وغیرہ وغیرہ۔" حضور کا لہجہ ناراضگی کا تھا مگر نیز صاحب نے غلطی کا اعتراف کیا اور ادب سے عرض کیا کہ حضور میری زبان کی غلطی طرز ادا اور طریق بیان کا نقص ہے ورنہ میرا یہ مطلب ہرگز نہ تھا۔پورٹ سمتھ کے مضمون کی انگریزی کاپی کے حصول کی بھی کوشش میں ہوں۔مل گئی تو انشاء اللہ ارسال کروں گا مگر اب کے ارادہ ہے کہ رجسٹرڈ نہ بھیجوں کیونکہ معلوم ہوا ہے کہ رجسٹرڈ خط دیر کر کے پہنچتا ہے۔بہر حال وقت پر دیکھوں گا کہ کیا کرنا چاہیے۔کل شام کا کھانا حضور نے ٹھیک وقت پر کھایا اور سات بجے کھانے کے میز پر تشریف لے آئے۔مسٹر داس گپتا بھی آئے ہوئے تھے کھانے میں شریک ہوئے اور مختلف قسم کی باتوں کے دوران میں انہوں نے بڑے زور سے بار بار اصرار کر کے عرض کیا کہ آپ امریکہ ضرور ہی تشریف لے چلیں کیونکہ وہاں بہت جلد کامیابی کی امید ہے۔آپ اب ہندوستان سے آئے ہوئے ہیں اور دروازے پر پہنچ کر کوٹ جانا امریکہ کی بدقسمتی ہو گی۔آپ ضرور امریکہ تشریف لے چلیں وہاں کے لوگوں میں قبولیت کا مادہ بہت زیادہ ہے۔اس نے عرض کیا کہ اگر حضور تشریف لے جانے کا ارادہ فرمالیں تو میں چار پانچ شہروں میں حضور کے لیکچروں کا فوراً انتظام کرادوں گا ۱۔نیویارک ۲ - واشنگٹن ۳ - بوسٹن ۴ - فلڈلفیا اور ۵ - شکاگو اور امید ہے کہ وہ لوگ حضور کی تقریروں سے ضرور متاثر ہونگے۔اس نے پھر حضور کے مضمون اور طرز ادا کی تعریف کی اور کہا کہ اس دن کے لیکچر کے بعد پانچ آدمی میرے پاس آئے اور انہوں نے حضور کے مضمون کو پڑھنے اور نفس مضمون کی بھی بہت تعریف کی۔طرز ادا اور لہجہ حضور کا موثر تھا جس کی گرفت دلوں پر پڑتی معلوم ہوتی تھی۔-