سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 210 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 210

۲۱۰ وہ جو آئندہ وصولی کا اقرار ہے۔اس کے واسطے اراضی اور وصولی کے لئے مولوی عبد الرحیم صاحب در دایم۔اے کا نام ہوتا کہ وہ بعد میں وصول بھی کر سکیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور نے اس سودے کو منظور فرمالیا ہے اگر ضرورت ہوئی تو جواب آنے پر مولوی عبدالرحیم صاحب درد برلن بھی جائیں گے۔بعد کی خبر ہے کہ کوئی کمپنی اس بات کے لئے تیار ہوگئی ہے کہ ہمیں (البیت ) ہی بنادے جس کے لئے اس کمپنی کو ۶ لاکھ روپیہ گورنمنٹ سے قرض لینا پڑے گا اور وہ نصف کے قریب مکان اس کے عوض میں لے لیں گے اور اس طرح سے ہمیں نصف مکان اور (البیت ) بھی مل جائے گی جن سے ۱۲ ہزار مارک سالانہ کی آمد کی بھی امید دلائی جاتی ہے مگر حضور نے فرمایا کہ اس میں ایک خطرہ بھی ہے اور وہ یہ کہ جو کمپنی گورنمنٹ سے قرض لے گی اگر خدانخواستہ کمپنی بے ایمانی کر کے روپیہ کھا جائے اور عمارت نہ بنائے تو گورنمنٹ اس تمام زمین اور مکان پر قبضہ کرے گی جس پر عمارت بنانے کے لئے وہ روپیہ قرض دے گی۔یہ ایک خطرہ بھی ہے۔ہم خود قرضہ لینے میں شریک نہیں ہو سکتے کیونکہ اس میں کچھ سود بھی دینا پڑتا ہے ورنہ اگر کسی صورت سے ہم خود قرضہ لے سکیں یا کمپنی کے ساتھ شامل ہوسکیں تو یہ خطرہ بھی نہیں رہتا۔بہر حال یہ امورا بھی قابل غور ہیں نہ معلوم اللہ تعالیٰ کس راہ سے خیر و برکت کی راہ نکالے گا۔مکرم محترم جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب جنہوں نے خود موقع کو دیکھا ہے چاہتے ہیں کہ وہاں کسی طرح سے (البيت) ضرور بن جائے خواہ مکانات کو کرایہ پر دے دیا جاوے مگر ایسی موقع کی جگہ اگر خدانخواستہ ہاتھ سے نکل گئی تو پھر اس کا ملنا مشکل تر ہے۔لہذا بہتر یہی ہے کہ وہاں کسی نہ کسی طرح سے ( البیت ) بھی بن جائے اور مکانات بھی۔غرض وہ تو برلن کے کفر گڑھ میں خانہ خدائے واحد کی تکمیل کے مشتاق اور خدا کے نام کی اس کے بلند میناروں سے منادی ہوتے سننے کے متمنی ہیں۔خدا قبول کرے۔حضرت اقدس کل عصر کے بعد مضامین سے فارغ ہو کر بازار تشریف لے گئے ( کتابوں کی دکانات پر نہ کہ ڈاکٹر کے ہاں جیسا کہ میں نے پہلے لکھا ) مگر کتابوں کی دکانات کسی وجہ سے بند تھیں۔لہذا حضور دوسری ضرورت کے لئے بعض دکانات پر تشریف لے گئے اور شام کی نماز کے وقت واپس