سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 183 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 183

۱۸۳ اچھی قسم کی مشین بھی یہاں کئی ملتی ہیں۔اعلیٰ قسم کی ۲۵ پونڈ تک مل جاتی ہے۔اس مشین پر جو بارہ پونڈ کی ملتی ہے ہم لوگوں نے ۲ گھنٹہ میں بارہ سو کاغذ چھاپا جو تمام انجمن ہائے احمدیہ کے سیکرٹریوں کو بطور مختصری رپورٹ کے بھیجا گیا ہے۔ابھی پہلا دن تھا ور نہ چھپائی اس کی بہت عمدہ ہو سکتی ہے اور غالباً بہت ارزاں بھی ہوگی۔کھانے کا خرچ : ہمارے پہلے عشرہ کا بل ۳۱ / اگست تک صرف کچن کے متعلق ۴۷ پونڈ کا آیا ہے۔سیدنا حضرت خلیفہ ایسیح کے دستر خوان پر اوسطاً روزانہ ۲۵ آدمی کا کھانا چنا جاتا ہے جن میں سے دیسی طریق اور دیسی کھانا ۱۹ اکس کے واسطے ہوتا ہے ( جو میاں رحمدبن تیار کرتا ہے۔روٹی بازار سے آتی ہے۔باقی کس کا کھانا انگریزی طرز کا ہوتا ہے ) جن میں ۴ نوکروں کے علاوہ مکرمی جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اور ایک ان کے دوست جرمن رئیس مسٹر آسکر ہیں۔نوکر لوگ بھی وہی کھانا کھاتے ہیں بلکہ اس سے بھی ایک رنگ میں بہتر جو ہمارے مکرم چوہدری صاحب کو ملتا ہے۔چائے پانی کا تو حساب ہی نہیں جتنی مرتبہ چاہیں پئیں اور جو چاہیں کھائیں اس کے بغیر وہ کام ہی نہیں کرتے۔باورچی خانہ کے اخراجات پر کنٹرول کے لئے مجھے حکم ملا ہے۔دیسی کھانے میں تو ہر ممکن کمی اور کفایت کر دی گئی ہے انگریزی کھانے کی مجھ سے کوئی حد بست نہیں ہوسکی گور و با صلاح وہ کام بھی ہو چلا ہے۔اگر ۲۵ پونڈ ہفتہ وار اخراجات تک میں اس پل کو پہنچا سکوں تو میں سمجھوں گا کہ میری بہت بڑی بہادری ہوگی۔بہر حال اخراجات لنڈن کے بہت ہی بے انتہا ہیں۔اخراجات کی زیادتی : بعض دوستوں نے لنڈن پہنچتے ہی کپڑے دھونے کو دے دیے تھے۔جب پل آیا تو سب کی آنکھیں کھلیں اور سب نے عہد کیا کہ آئندہ حتی الوسع کپڑے دھلانے میں محتاط رہیں گے۔میں اٹلی کے شہر روما کا ڈرا ہوا تھا۔وہاں ململ کا کرتا دھونے کو دے بیٹھا تھا۔کے پیسے لے لئے اور گرتا پھاڑ کر بھیج دیا۔وہ گرتا میں نے نیا بنایا تھا جوصرف جہاز میں ایک ہفتہ پہنا تھا اور ایسے گرتے ایک پیسہ کے صابن میں ہم لوگ چار دھو سکتے ہیں۔اس خوف کے مارے میں نے تو لنڈن میں کوئی کپڑا نہ دیا۔جنہوں نے دیئے وہ حیران ہوئے کہ کپڑے لیں یا مزدوری میں دھوبی کو ہی دے دیں۔صرف ایک سفید پاجامہ کی دھلائی ڈیڑھ روپیہ لگائی ہے (۲ شلنگ ) غور فرمائیے