سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 148 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 148

۱۴۸ (۳۵) میں نے اس واسطے پوچھا تھا کہ چین میں مسلمان کا ایک نشان ہوتا ہے۔میں سمجھا تھا کہ شاید یہ بھی کوئی نشان ہو۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہما را نشان خدا کی عبادت۔نسل انسان کی خدمت اور وہ نیک اعمال ہیں جو انسان کے چہرہ سے اس کے ایمان کی شہادت دیتے ہیں اور جن کا تعلق خدا سے لے کر اس کی ادنی ترین مخلوق تک سے ہوتا ہے اور بہت مفصل بیان فرمایا۔- (۳۶) آپ کب تک یہاں ٹھہریں گے ؟ جواب میں فرمایا دو دن اور۔میں لندن جا رہا ہوں مگر یہاں مسولینی ( وزیر اعظم اٹلی ) سے بھی ملنا چاہتا ہوں۔(۳۷) کیا آپ پوپ سے بھی ملیں گے ؟ جواب ! سنا ہے کہ اس کی ملاقات دو ہفتہ تک بند ہے کیونکہ اس کے مکان کی مرمت ہو رہی ہے۔البتہ کل گیارہ بجے مسولینی سے ملوں گا۔(۳۸) پوپ سے ملتے وقت آپ اس کو کیا سمجھتے ؟ حضور نے فرمایا کہ ایک جماعت کا سردار ہونے کی وجہ سے میں اس کو معزز سمجھتا ہوں۔میں اس کے سامنے اسلام پیش کرتا کیونکہ سب سے بڑا تحفہ یہی ہے جو انسان کی دینوی اور اُخروی بھلائی کا موجب ہو سکتا ہے اور حقیقی خیر خواہی اسی میں ہے جو ایک انسان کسی سے کر سکتا ہے۔اسی سلسلہ میں آپ نے فرمایا کہ وہ نشانات جو پہلے نبیوں کو دیئے جاتے تھے اب بھی ان کے سچے متبعین کو دیئے جاتے ہیں اور خدا کی رضا اور معیت کا ثبوت ہوتے ہیں۔میری جماعت میں ہزاروں ہیں کہ خدا سے کلام پاتے ہیں اور خود مجھ سے با رہا خدا نے کلام کیا۔ہم کسی شخصیت کو بغیر نشانات کے قبول نہیں کرتے کیونکہ خدا کا تعلق کلام اور زبر دست نشان کے بغیر ثابت نہیں ہو سکتا۔(۳۹) کیا آپ بھی خدا سے کلام پاتے ہیں ؟ فرمایا ہاں اور تفصیل اس کی بیان فرمائی اور بتایا کہ میں الفاظ خدا کے سنتا ہوں۔(۴۰) کیا اس میں بانی سلسلہ کی خصوصیت ہے یا یہ سلسلہ جاری بھی رہتا ہے؟ جواب میں حضرت اقدس نے فرمایا ہر شخص بقدر مراتب حصہ پا سکتا ہے جس کے دل میں خدا کی محبت ہوتی کہ اگر انسان ان پڑھ بھی ہو تو وہ محبت کا ولولہ رکھتے ہوئے حصہ پا سکتا ہے مگر ایمان شرط ہے کیونکہ باغی انعام کے مستحق نہیں ہوا کرتے۔آخر اس نے درخواست کی تھی کہ مجھے کوئی لٹریچر یا فوٹو دیا جاوے۔حضور نے تحفہ پرنس آف ویلز کا ذکر فرمایا اور اسی وقت ایک کاپی اس کو منگا کر دے دی۔یہ کتاب دیتے ہوئے