سفر یورپ 1924ء — Page 111
اسٹیشن سے پہلے ہی پیچھے چھوڑ دیا اور اس طرح سے اب جہاز ہم سے پیچھے رہ گیا ہے۔نہر سویز اور ریلوے لائن قنطارا سے ساتھ ساتھ جاتی ہیں بمشکل ایک سو گز کا فاصلہ ہوگا۔قا را اسٹیشن غربی سے قطا را شرقی تک سامان لے جانے اور سوار کرانے کٹم سے سامان پاس کرانے کا پچھلی مرتبہ کا بل ۳ پونڈ تھا۔اب کی مرتبہ وہ بل ساڑھے تین پونڈ ہو گیا - تفاصیل معلوم کرنے پر پتہ لگا کہ بہت زیادہ چارج کرتے ہیں۔مولوی عبد الرحیم صاحب درد نے بل ادا نہ کیا۔اس کے عوض میں یا غلطی سے یا بھول کر کک والوں نے چوہدری محمد شریف صاحب بی۔اے کا ایک سوٹ کیس دوسرا ہینڈ بیگ گاڑی میں نہ رکھا جو چوہدری صاحب نے ان کے حوالے کر کے باقی سامان سے الگ کر دیا تھا کہ اس کو میرے سیکنڈ کلاس کے کمرہ میں رکھنا۔گاڑی چل جانے کے بعد معلوم ہوا کہ سامان گاڑی میں نہیں آیا۔اُن کا تمام سامان پوشیدنی وغیرہ اسی میں تھا۔گاڑی پورٹ سعید پونے گیارہ بجے پہنچی اور جہاز ساڑھے بارہ بجے پہنچ گیا۔حضرت صاحب اسٹیشن سے سیدھے کانٹی نینٹل ہوٹل میں تشریف لے گئے اور ہندوستان سے آئی ہوئی ڈاک ملا حظہ فرمائی۔ایک آدمی کو کنگ کے مینجر کے پاس بھیجا کہ روپیہ لے سکیں۔ادھر وہ آیا اور حضور دفتر میں تشریف لے گئے جہاں دو بج گئے۔سامان کٹم میں لے جایا گیا۔ایک موٹر قعطا را روا نہ کی گئی کہ عرفانی صاحب اور چوہدری صاحب کو لے آوے۔شیخ محمود احمد صاحب موٹر میں گئے۔ان کو تاکید کر دی گئی کہ چوہدری محمد شریف صاحب کا سامان بھی لے آویں۔ہم لوگ کسٹم وغیرہ کے جھگڑوں سے فارغ ہو کر ساڑھے تین بجے جہاز کے اندر پہنچے۔ہمارا جہاز آٹھ بجے صبح پورٹ سعید سے روا نہ ہوا۔آخری وقت تک عرفانی صاحب اور چوہدری صاحب کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے رہے مگر کوئی نہ آیا۔آج رات بھر ہم میں سے کوئی بھی ایک لمحہ کے واسطے سوسکا اور نہ لیٹ سکا۔ہوٹل میں چند منٹ حضرت اقدس ٹھہرے جس کے لیے پندرہ روپے نقد ادا کرنے پڑے۔قنطارا کی موٹر کو پچھتر روپے دیئے گئے اور عرفانی صاحب اور چوہدری صاحب کے واسطے ہیں پونڈ کنگ کے پاس رکھوائے گئے اور ہدایت کی گئی کہ جمعہ کے دن جو جہاز اسی کمپنی کا اٹلی کو روانہ ہونے والا ہے۔اس میں ان دونوں کوضرور سوار کر وایا جاوے۔